سوره ابراهیم / آیه 13- 17
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ ۱۳وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ ۱۴وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ۱۵مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ ۱۶يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِنْ وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ ۱۷
اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کردیں گے یا تم ہمارے مذہب کی طرف پلٹ آؤ گے تو پروردگار نے ان کی طرف وحی کی کہ خبردار گھبراؤ نہیں ہم یقینا ظالمین کو تباہ و برباد کردیں گے. اور تمہیں ان کے بعد زمین میں آباد کردیں گے اور یہ سب ان لوگوں کے لئے ہے جو ہمارے مقام اور مرتبہ سے ڈرتے ہیں اور ہمارے عذاب کا خوف رکھتے ہیں. اور پیغمبروں نے ہم سے فتح کا مطالبہ کیا اور ان سے عناد رکھنے والے سرکش افراد ذلیل اور رسوا ہوگئے. ان کے پیچھے جہّنم ہے اور انہیں پیپ دار پانی پلایا جائے گا. جسے گھونٹ گھونٹ پئیں گے اور وہ انہیں گوارا نہ ہوگا اور انہیں موت ہر طرف سے گھیر لے گی حالانکہ وہ مرنے والے نہیں ہیں اور ان کے پیچھے بہت سخت عذاب لگا ہوا ہے.
۱۳ وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِنْ اٴَرْضِنَا اٴَوْ لَتَعُودُنَّ فِی مِلَّتِنَا فَاٴَوْحَی إِلَیْھِمْ رَبُّھُمْ لَنُھْلِکَنَّ الظَّالِمِینَ۔
۱۴۔ وَلَنُسْکِنَنَّکُمْ الْاٴَرْضَ مِنْ بَعْدِھِمْ ذَلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِی وَخَافَ وَعِیدِ۔
۱۵۔ وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ ۔
۱۶۔ مِنْ وَرَائِہِ جَھَنَّمُ وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ ۔
۱۷۔ یَتَجَرَّعُہُ وَلاَیَکَادُ یُسِیغُہُ وَیَاٴْتِیہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَمَا ھُوَ بِمَیِّتٍ وَمِنْ وَرَائِہِ عَذَابٌ غَلِیظٌ ۔
ترجمہ
۱۳۔ جنہوں نے اپنے رسولوں سے کفر کیا انہوں نے کہا : یقینا ہم تمہیں اپنی سر زمین سے نکال باہر کریںگے مگر یہ کہ ہمارے دین کی طرف لوٹ آوٴ تو ایسے موقع پر ان کے پر وردگار نے ان کی طرف وحی کی کہ میں ظالموں کو ہلاک کردوں گا ۔
۱۴۔ اور تمہیں ان کے بعد زمین میں سکونت بخشوں گایہ (کامیابی ) ا س کے لئے ہے کہ جو میرے مقام ( عدالت ) سے ڈرتا ہو اور میرے عذاب کا خوف رکھتا ہو۔
۱۵۔ انہوں نے ( خدا سے) فتح و کامرانی کا تقاضا کیا اور ہر جبار ِ منحرف نا امید اور نا بود ہوا ۔
۱۶۔ اس کے پیچھے جہنم ہو گی اور اسے متعفن پانی پلایاجائے گا ۔
۱۷۔ وہ اسے بڑی مشکل سے گھونٹ گھونٹ کرکے پئے گا اور وہ اسے خوشی سے پینے کو تیار نہیں اور ہر جگہ سے موت اس کی طرف آئے گی لیکن اس کے باوجود وہ مرے گا نہیں اور اس کے پیچھے عذاب ِ شدید ہے ۔