Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ کم ظرفی کی انتہا

										
																									
								

Ayat No : 8-11

: هود

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۸وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ ۹وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ ۱۰إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ۱۱

Translation

اور اگر ہم ان کے عذاب کو ایک معینہ مدّت کے لئے ٹال دیں تو طنز کریں گے کہ عذاب کو کس چیز نے روک لیا ہے -آگاہ ہوجاؤ کہ جس دن عذاب آجائے گا تو پھر پلٹنے والا نہیں ہے اور پھر وہ عذاب ان کو ہر طرف سے گھیر لے گا جس کا یہ مذاق اڑا رہے تھے. اور اگر ہم انسان کو رحمت دے کر چھین لیتے ہیں تو مایوس ہوجاتا ہے اور کفر کرنے لگتا ہے. اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد نعمت اور آرام کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ اب تو ہماری ساری برائیاں چلی گئیں اور وہ خوش ہوکر اکڑنے لگتا ہے. علاوہ ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں کہ ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر بھی ہے.

Tafseer

									ایک اورنکتہ جو توجہ طلب ہے یہ ہے کہ دونوں مواقع (عطا کے بعد نعمت کے سلب ہونے اور سلب کے بعد عطا ہونے) کے لئے ”اذقنا“ جو مادہ ”اذاقة“ سے چکھنے کے معنی میں آیا ہے، کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس قدر کم ظرف ہیں کہ اگر تھوڑی سی نعمت انھیں دی جائے اور پھر اسے ان سے لے لیا جائے تو ان کی داد وفریاد اور ناشکری کی صدا بلند ہوتی ہے اور اگر تکلیف وناراحتی کے بعد ذرا سی نعمت انھیں مل جائے تو فرط وانبساط میں سرکے بل دوڑتے ہیں ۔