Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ امتِ معدودہ اور یارانِ مہدی علیہ السلام:

										
																									
								

Ayat No : 8-11

: هود

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۸وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ ۹وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ ۱۰إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ۱۱

Translation

اور اگر ہم ان کے عذاب کو ایک معینہ مدّت کے لئے ٹال دیں تو طنز کریں گے کہ عذاب کو کس چیز نے روک لیا ہے -آگاہ ہوجاؤ کہ جس دن عذاب آجائے گا تو پھر پلٹنے والا نہیں ہے اور پھر وہ عذاب ان کو ہر طرف سے گھیر لے گا جس کا یہ مذاق اڑا رہے تھے. اور اگر ہم انسان کو رحمت دے کر چھین لیتے ہیں تو مایوس ہوجاتا ہے اور کفر کرنے لگتا ہے. اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد نعمت اور آرام کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ اب تو ہماری ساری برائیاں چلی گئیں اور وہ خوش ہوکر اکڑنے لگتا ہے. علاوہ ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں کہ ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر بھی ہے.

Tafseer

									وہ متعدد روایات جو طریق اہلِ بیت(علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں ”امت معدودہ“ سے مراد بہت تھوڑے افراد اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے یار وانصار کی طرف اشارہ سمجھا گیا ہے، لہٰذا اس ترتیب سے پہلی آیت کا مطلب اس طرح ہوگا: اگر ہم ستمگروں اور بدکاروں کی سزا وعذاب حضرت مہدی(علیه السلام) اور ان کے یاروانصار کے قیام تک ملتوی کردیں تو وہ (منکرین) کہتے ہیں کہ کس چیز نے عذابِ خدا کو روک رکھا ہے ۔
لیکن جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں آیت کے ظاہری معنی میں ”امتِ معدودہ“ محدود ومعیّن زمانہ کے معنی میں آتا ہے اور امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے بھی اس آیت کی تفسیر میں جو روایت نقل ہوئی ہے اس میں ”امت معدودہ“ کی یہی تفسیر بیان ہوئی ہے ۔
بنابریں ممکن ہے منقولہ روایت آیت کے دوسرے معنی یا بطن آیت کی طرف اشارہ ہو، البتہ اس صورت میں ظالموں اور ستمگروں کے بارے میں ایک قانون کلّی کا بیان ہوگا نہ کہ زمانہٴ پیغمبر اکرم کے مشرکین اور مجرموں سے مربوط مسئلہ ہوگا، نیز ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی آیات مختلف معانی رکھتی ہیں، ممکن ہے اس کا پہلا اور ظاہری مطلب کسی خاص مسئلہ یا گروہ سے متعلق ہو، لیکن اس کا دوسرا معنی ایک عام معنی ہو جو کسی زمانہ یا گروہ میں منحصر نہ ہو۔