مشرکین کے بارے میں حتمی فیصلہ
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِنْ دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۱۰۴وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۱۰۵وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ ۱۰۶وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۱۰۷
پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگوں کو میرے دین میں شک ہے تو میں ان کی پرستش نہیں کرسکتا جنہیں تم لوگ خدا کو چھوڑ کر پوج رہے ہو -میں تو صرف اس خدا کی عبادت کرتا ہوں جو تم سب کو موت دینے والا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صاحبان هایمان میں شامل رہوں. اور آپ اپنا رخ بالکل دین کی طرف رکھیں. باطل سے الگ رہیں اور ہرگز مشرکین کی جماعت میں شمار نہ ہوں. اور خدا کے علاوہ کسی ایسے کو آواز نہ دیں جو نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان ورنہ ایسا کریں گے تو آپ کا شمار بھی ظالمین میں ہوجائے گا. اور اگر خدا نقصان پہنچانا چاہے تو اس کے علاوہ کوئی بچانے والا نہیں ہے اور اگر وہ بھلائی کا ارادہ کرلے تو اس کے فضل کا کوئی روکنے والا نہیں ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں بھلائی عطا کرتا ہے وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے.
جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے ” حنیف“ اس شخص کو کہتے ہیں جو انحراف اور ٹیڑھے پن سے راستی ، استقامت اور سیدھے پن کی طرف جھکے یا دوسرے لفظوں میں انحراف اور ٹیڑھے دینوں اور طور طریقوں سے آنکھیں بند کرلے اور خدا کے سیدھے اور مستقیم دین کی طرف متوجہ ہو وہی دین جو فطرت کے مطابق ہے اور فطرت سے اسی مطابقت کی وجہ سے صاف ستھرا او رمستقیم ہے ، اس بناء پر تو حید کے فطری ہونے کی طرف اشارہ اس میں پنہاں ہے کیونکہ انحراف وہ چیز ہے جو فطرت کے خلاف ہو ( غور کیجئے گا ) ۔
فطرت کے راستے شرک کے بطلان کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ایک واضح عقلی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ ” خدا کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت نہ کرجو نہ فائدہ پہنچاسکتی ہیں اور نہ نقصان ۔ کیونکہ اگر تونے ایسا کام کیا تو ظالموں میں سے ہو جائے گا “ اپنے اوپر ظلم کرے گا اور ا س معاشرے پر بھی جس سے تیرا تعلق ہے ۔ ( وَلاَتَدْعُ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَنْفَعُکَ وَلاَیَضُرُّکَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذًا مِنْ الظَّالِمِینَ) ۔
کون سی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان ایسی چیزوں او رموجودات کی عبادت کرے کہ جو کسی قسم کا فائدہ اور نقصان نہیں پہنچا سکتیں اور انسانی تقدیر میں جن کا تھوڑا سا بھی اثر نہیں ہے ۔
یہاں بھی صرف نفی کے پہلو پر بس نہیں کیا گئی بلکہ مثبت پہلو کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے : اگر تمہیں خدا کی طرف سے ناراحتی اور نقصان پہنچے ( چاہے سزا کے طور پر ) ، اس کے علاوہ کوئی بھی اسے بر طرف نہیں کرسکتا( وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللهُ بِضُرٍّ فَلاَکَاشِفَ لَہُ إِلاّھُوَ) ۔اسی طرح ” اگر خدا چاہے کہ تمجے بھلائی پہنچے تو کوئی بھی اس کے فضل و رحمت کوروک نہیں سکتا “ ( وَإِنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَرَادَّ لِفَضْلِہِ ) ۔
” وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے ( اور اہل سمجھے) خیر اور نیکی تک پہچاتا ہے ( یُصِیبُ بِہِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ) ۔کیونکہ اس کی بخشش اور رحمت سب پر محیط ہے اور وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والاہے ( وَھُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ) ۔
۱۰۸۔ قُلْ یَااٴَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ اھْتَدَی فَإِنَّمَا یَھْتَدِی لِنَفْسِہِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا وَمَا اٴَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیلٍ۔
۱۰۹۔ وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی إِلَیْکَ وَاصْبِرْ حَتَّی یَحْکُمَ اللهُ وَھُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ ۔
ترجمہ
۱۰۸۔ کہہ دو: اے لوگو! تمہارے پر وردگار کی طرف سے حق تمہاری جانب آیا ہے ( اس کے زیر سایہ) ہدایت یافتہ اپنے لئے ہدایت پا تا ہے اور جو شخص گمراہ ہو جائے تو وہ اپنے نقصان میں گمراہ ہوا ہے او رمیں تم پر ( مجبور کرنے کے لئے ) مامور نہیں ہوں ۔
۱۰۹۔ اور جو کچھ تم پروحی ہوتی ہے اس کی پیروی کر اور صبر کر ( اور استقامت دکھا ) تاکہ خدا ( کامیابی کا ) حکم صادر کرے اور وہ بہترین حکم کرنے والا ہے ۔