Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شک کو اپنے قریب نہ آنے دو

										
																									
								

Ayat No : 94-97

: يونس

فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ ۹۴وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ۹۵إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ ۹۶وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ۹۷

Translation

اب اگر تم کو اس میں شک ہے جو ہم نے نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھو جو اس کے پہلے کتاب توریت و انجیل پڑھتے رہے ہیں یقینا تمہارے پروردگار کی طرف سے حق آچکا ہے تو اب تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو. اور ان لوگوں میں نہ ہو جاؤ جنہوں نے آیات الہٰیہ کی تکذیب کی ہے کہ اس طرح خسارہ والوں میں شمار ہوجاؤ گے. بیشک جن لوگوں پر کلمئہ عذابِ الٰہی ثابت ہوچکا ہے وہ ہرگز ایمان لانے والے نہیں ہیں. چاہے ان کے پاس تمام نشانیاں کیوں نہ آجائیں جب تک اپنی آنکھوں سے دردناک عذاب نہ دیکھ لیں گے.

Tafseer

									گزشتہ آیات میں چونکہ انبیاء اور اقوام کی سر گذشت کے کچھ حصے بیان کئے گئے ہیں لہٰذا ممکن تھاکہ بعض مشرکین اور دعوتِ پیغمبر کے منکر ان کی صداقت میں شک کرتے ۔ قرآن ان سے چاہتا ہے کہ ان کہی ہوئی باتوں کی صداقت سمجھنے کے لئے اہل کتاب کی طرف رجوع کریں اور ان کے بارے میں ان سے معلوم کریں کیونکہ ان کی کتب میں اس قسم کے بہت سے مسائل آئے ہیں لیکن مخالفین کی طرف روئے سخن کرنے کی بجائے پیغمبر کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے اگر تجھے اس کے بارے میں شک وتردد ہے تو ان سے جو تجھ سے پہلے آسمانی کتب پڑھتے ہیں پوچھ لے ( فَإِنْ کُنْتَ فِی شَکٍّ مِمَّا اٴَنْزَلْنَا إِلَیْکَ فَاسْاٴَلْ الَّذِینَ یَقْرَئُونَ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکَ) ۔
تاکہ اس طرح سے یہ ثابت ہو جائے کہ ” ج وکچھ ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے وہ تیرے پر وردگار کی طرف سے حق ہے ( لَقَدْ جَائَکَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ ) ۔لہٰذا کسی قسم کے شک و شبہ کو ہر گز اپنے قریب نہ آنے دے ( فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ المُمْتَرِینَ) ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ مندرجہ بالا دعوت پیغمبر کی صداقت کے بارے میں ایک نئی اور مستقبل بحث شروع کررہی ہو اور مخالفین سے کہتی ہو کہ اھر اس کی حقانیت کے بارے میں انھیں کوئی شک و تردد ہے تو اس کی نشانیاں جو گزشتہ کتب مثلاً تورات اور انجیل میں ہیں اہل کتاب سے پوچھ لیں ۔ 
ایک شان نزول جو بعض کتب تفسیر ( تفسیر الفتوح رازی ،ج۶ ،ص ۲۲۷، مذکورہ آیت کے ذیل میں ) ۔ میں نقل ہو ئی ہے وہ بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے : کفار قریش کا ایک گروہ کہتا تھا کہ یہ قرآن خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوا بلکہ ( معاذاللہ ) محمد پر شیطان القا ء کرتا ہے ۔ ان کی اس گفتگو کی وجہ سے بعض لوگ شک و تردد کا شکار ہو گئے اس آیت کے ذریعے الہ نے انھیں جواب دیا۔