Tafseer e Namoona

Topic

											

									  خود غرض انسان

										
																									
								

Ayat No : 11-12

: يونس

وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ۱۱وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَسَّهُ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۱۲

Translation

اگر خدا لوگوں کے لئے برائی میں بھی اتنی ہی جلدی کردیتا جتنی یہ لوگ بھلائی میں چاہتے ہیں تو اب تک ان کی مدت کا فیصلہ ہوچکا ہوتا - ہم تو اپنی ملاقات کی امید نہ رکھنے والوں کو ان کی سرکشی میں چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ یونہی ٹھوکریں کھاتے پھریں. انسان کو جب کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اٹھتے بیٹھتے کروٹیں بدلتے ہم کو پکارتا ہے اور جب ہم اس نقصان کو دور کردیتے ہیں تو یوں گزر جاتا ہے جیسے کبھی کسی مصیبت میں ہم کو پکارا ہی نہیں تھا بیشک زیادتی کرنے والوں کے اعمال یوں ہی ان کے سامنے آراستہ کردئیے جاتے ہیں.

Tafseer

									ان آیات میں بھی بد کاروں کی پاداش کے بارے میں گفتگو جاری ہے ۔ 
پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے : اگر خدا بد کار لوگوں کو جلدی اور اسی جہان میں سزا دےدے اور جیسے وہ نعمت اور خیر کے بارے کے حصول میں جلدی کرتے ہیں خدا بھی ان کی سزا میں تعجیل کرے تو سب کی عمر ختم ہو جائے اور ان کا نام و نشان تک بھی باقی نہ رہے 
(وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللَّہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجالَھم بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ إِلَیْھمْ اٴَجَلُھمْ)
لیکن خدا لطف چونکہ تمام بندوں کے شامل حال ہے یہاں تک کہ بد کاروں ، کافروں اور مشرکوں کے لئے بھی ہے اس لیے وہ ان کی سزا میں جلدی نہین کرتا کہ شاید وہ بیدار ہوں جائیں ، توبہ کر لیں اور بے راہ روی سے پلٹ آئیں ۔ علاوہ ازیں اگرسزا اتنی جلد مل جاتی تو اختیاری حالت جو کہ مسوٴلیت کی بنیاد ہے ، تقریبا ً ختم ہوجاتی اور اطاعت گزاروں کی اطاعت بھی ، پھر اضطراری کیفیت میں ہوتی کیونکہ خلاف ورزی کی صورت میں فوراً وہ درد ناک سزا کا سامنا کرتے ۔ 
اس جملے میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کچھ ہٹ دھرم کفار ایسے تھے جو انبیاء سے کہتے تھے کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو جتنا جلدی ہوسکے خدا سے کہو، ہمیں نابود کر دے یا سزا دے اس بات کو قرآن نے ذکر کیا ہے اب اگر خدا ان کے اس تقاضے کو قبول کر لیتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا . لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ۔ 
آیت کے آخر مین قرآن فرماتا ہے : ان کے لئے یہی سزا کافی ہے کہ جو لوگ قیامت اور ہماری ملاقات پر ایمان نہیں لائے انھیں ہم ان کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں تا کہ وہ اپنے طغیان میں حیران و سرگردان رہیں ، نہ حق کو باطل سے جدا کر سکیں اور نہ راہ کو چاہ سے ۔
( فَنَذَرُ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاء َنا فی طُغْیانِھمْ یَعْمَھُونَ )۔ 
اس موقع پر آدمی کی فطرت اور روح کی گہرائی میں نور توحید کے وجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : جب انسان کو کوئی نقصان اور ضرر پہنچتا ہے اور ہر جگہ اس کا ہاتھ کوتاہ ہوجاتا ہے تو ہماری طرف ہاتھ بلند کرتا ہے اور جب وہ پہلو کے بل سوتا ہے یا بیٹھاتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے ، ہر حالت میں ہمیں پکارتا ہے ۔
(وَ إِذا مَسَّ الْإِنْسانَ الضُّرُّ دَعانا لِجَنْبِہِ اٴَوْ قاعِداً اٴَوْ قائِماً ) 
جی ہاں ! مشکلات اور دردناک حواث کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی پاک فطرت سے پردوں اور حجابوں کو بر طرف کر دیتے ہیں ۔ حوادث کی بھٹی میں تمام سیا ہ پردے جنہوں نے اس فطرت کو چھپا رکھا ہوتا ہے ، جل جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں اور ایک عرصہ کے لئے چاہے وہ کتنا ہی کم ہو اس نور توحیدی کی چمک آشکار ہو جاتی ہے ۔ 
اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ باقی رہے یہ لوگ ، تو یہ اس قدر کم ظرف اور بے عقل ہیں کہ -- ” اتنی دیر میں کہ ہم بلا و پریشانی ان سے بر طرف کر دیں ، اس طرح غفلت میں ڈوب جاتے ہیں گویا انھوں نے ہم سے کوئی بالکل تقاضا ہی نہ کیا تھا ، اور ہم نے بھی جیسے ان کی کوئی مدد نہیں کی (فَلَمَّا کَشَفْنا عَنْہُ ضُرَّہُ مَرَّ کَاٴَنْ لَمْ یَدْعُنا إِلی ضُرٍّ مَسَّہُ )
جی ہاں ! اس طرح سے مسرفین کے اعمال کو ان نظر میں مزین کیا گیا ہے ۔ (کَذلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفینَ ما کانُوا یَعْمَلُونَ )۔
ایسے افراد کے اعمال کو ان کی نظر میں کون مزین کرکے پیش کرتا ہے ؟ اس بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد پنجم سورہ انعام کی آیہ ۱۲۲ کے ذیل میں صفحہ ۳۴۳ ( اردو ترجمہ ) پر بحث کر چکے ہیں اس بحث کا اجمالی خاکہ یہ ہے کہ زینت دینے والا خدا ہے لیکن اس طرح سے کہ اس نے برے اور قبیح اعمال میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ جس قدر انسان ان سے آلودہ ہوجاتا ہے اس قدر ان کا زیادہ عادی ہو جاتا ہے اور نہ صرف ان کی برا ئی اور قباحت اس کی نظر میں ختم ہو جاتی ہے بلکہ وہ اسے آہستہ آہستہ اچھے معلوم ہونے لگتے ہیں ۔ 
یہ کہ ایسے افراد کو زیر نظر آیت میں ” مسرفین “ ( اسراف کرنے والے ) کیوں کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ اسراف کیا ہو گا کہ اپنے وجود کا اہم ترین سرمایہ یعنی عمر ، سلامتی ، جوانی اور اپنی مختلف صلاحیتوںکو فضول کاموں میں اور گناہ ، عصیان اور نا فرمانی میں برباد کر دے یا اس دنیا کے لئے بے وقعت اور نا پائیدار مال و متاع کے حصول میں ضائع کر دے اور اس سرمایہ کے بدلے میں اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو ... کیا یہ کام اسراف نہیں ہے اور کیا ایسے لوگ مسرف شمار نہیں ہوتے ؟