Tafseer e Namoona

Topic

											

									  واضح حکم کے بعدسزا

										
																									
								

Ayat No : 115-116

: التوبة

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُونَ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۱۱۵إِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۚ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ۱۱۶

Translation

اور اللہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اس وقت تک گمراہ نہیں قرار دیتا جب تک ان پر یہ واضح نہ کردے کہ انہیں کن چیزوں سے پرہیز کرنا ہے -بیشک اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے. اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی حکومت ہے اور وہی حیات و موت کا دینے والا ہے اس کے علاوہ تمہارا نہ کوئی سرپرست ہے نہ مددگار.

Tafseer

									مندرجہ بالا پہلی آیت ایک عمومی قانون کی طرف اشارہ ہے کہ جس کی عقل بھی تائید کرتی ہے اور وہ یہ کہ جب تک خدا کوئی حکم بیان نہ فرمائے اور شریعت میں اس کے بارے میں وضاحت نہ آجائے کسی شخص کو اس کے سلسلے میں سزا نہیں دے گا دوسرے لفظوں میں مسئولیت اور جوابدہی ہمیشہ احکام بیان کرنے کے بعد ہے اس چیز کو علم ِ اصول میں ” قاعدہ بلا بیان “ سے تعبیر کیا جاتاہے ۔ 
لہٰذا ابتداء میں فرما یا گیا ہے : ایسا نہ تھا کہ خدا کسی گروہ کو ہدایت کے بعد گمراہ کردے جب تک جس چیز سے اسے پرہیز کرنا چاہئیے وہ اس سے بیان نہ کردے ( وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ ھَدَاھُمْ حَتَّی یُبَیِّنَ لَھُمْ مَا یَتَّقُونَ )۔
”یضل “ اصل میں گمراہ کرنے کے معنی میں ہے اس سے مراد گمراہی کا حکم لگا نا ہے جیسا کہ بعض مفسرین کو احتمال ہے جیسے تعدیل اور تفسیق ۔ عدالت اور فسق۔ عدالت کا حکم لگانے کے معنی میں ہیں ۔ ۱
و طائفة قد اکفرونی بحبکم 
یعنی  ایک گروہ نے آپ کی محبت کی وجہ سے مجھ پر کفر کا حکم لگا یا ہے ۔ 
یاروز قیامت ثواب و جزا کے راستے سے گمراہ کرنے کے معنی میں ہے جو در اصل سزا دینے کے مفہوم میں ہوگا یاپھر ” اضلال “ سے مرد وہی ہے جس کی طرف پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں اور و ہ ہے نعمت ِ توفیق سلب کرنا اور انسان کو اس حالت پر چھوڑ دینا ۔ اس کا نتیجہ طریق ہدایت سے گمراہی اور سر گر دانی یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ گناہوں کا تسلسل زیادہ گمراہی اور طریق ہدایت سے دور رہنے کا سر چشمہ ہے ۔ ۲
آیت کے آخر میں فرمایا گیا : خد اہر چیز کو جانتا ہے ( إِنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ) ۔یعنی خد اکے علم کا تقاضا ہے کہ جب تک اس نے کسی کے بارے میں اپنے بندوں سے کچھ کہا نہیں اس کے بارے میں کسی کو جوابدہ نہ سمجھے اور اس سے مواخذہ نہ کرے ۔

 

۱۔ بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف ”باب تفعیل“ ہے جو کبھی حکم لگانے کے معنی میں بھی آتا ہے حالانکہ یہ حکم” باب افعال “میں دیکھا گیا ہے ۔ مثلا کمیت شاعر کا مشہو رشعر ہے جواس خاندان ِ رسالت سے اپنے عشق کے اظہار کے لئے کہا ہے ، اس میں ہے :۔ 
۲۔ قرآن میں ہدایت وضلالت کے معنی کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱۴۰ تا ص ۱۴۱( اردو ترجمہ )کی طرف رجوع کریں ۔