Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شانِ نزول

										
																									
								

Ayat No : 94-96

: التوبة

يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۹۴سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌ ۖ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ۹۵يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ ۖ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ۹۶

Translation

یہ تخلف کرنے والے منافقین تم لوگوں کی واپسی پر طرح طرح کے عذر بیان کریں گے تو آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ عذر نہ بیان کرنے والے نہیں ہیں اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتادئیے ہیں -وہ یقیناتمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور رسول بھی دیکھ رہا ہے اس کے بعد تم حاضر و غیب کے عالم خدا کی بارگاہ میں واپس کئے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کرے گا. عنقریب یہ لوگ تمہاری واپسی پر خدا کی قسم کھائیں گے کہ تم ان سے درگزر کردو تو تم کنارہ کشی اختیار کرلو -یہ مجسمئہ خباثت ہیں. ان کا ٹھکانا جہّنم ہے جو ان کے کئے کی صحیح سزا ہے. یہ تمہارے سامنے قسم کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ تو اگر تم راضی بھی ہوجاؤ تو خدا فاسق قوم سے راضی ہونے والا نہیں ہے.

Tafseer

									بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیات ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں جن کی تعداد اسی سے زیادہ تھی کیونکہ جب آپ جنگ تبوک سے واپس ہو ئے تو آپ نے حکم دیا کہ کوئی شخص ان کے ساتھ نہ بیٹھے او رنہ ان سے گفتگو کرے اور جب انھوں نے اپنے آپ کو معاشرے کے شدید دباوٴ میں دیکھا تو معذرتین کرنے لگے۔ اس پر مندر جہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں ان کی حقیقت واضح ہو گئی ہے ۔

تفسیر
جھوٹی معذرتوں اور قسموں پر اعتبار نہ کرویہ آیات بھی منافقین کے شیطانی اعمال کے بارے میں ہیں یکے بعد دیگرے ان مختلف کاموں سے پر دہ اٹھا یاجارہا ہے اور مسلمانوں کو خبر دار کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کے ریاکارانہ اعمال اور ظاہری دل پذیر باتوں سے وھوکا نہ کھائیں ۔ 
زیر نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : جب تم ( جنگ ِ تبوک سے ) مدینہ کی طرف لوٹ کر جاوٴ گے تو منافقین تمہارے پیچھے آئیں گے اور معذرت کریں گے

( یَعْتَذِرُونَ إِلَیْکُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَیْھِمْ )۔
” یعتذرون“ فعل مضارع ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے پیغمبر اکرم او رمسلمانوں کو پہلے ہی سے اس بات سے آگاہ کررکھا تھا کہ بہت جلد منافقین جھوٹ موٹ عذرخواہی کرتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے لہٰذا جواب دینے کا طریقہ بھی مسلمانوں کو بتا دیا گیا ۔ 
پھر پیغمبر اکرم کی طرف مسلمانوں کے رہبر کی حیثیت سے روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :منافقین سے کہہ دو کہ معذرت نہ کرو ہم ہر گز تمہاری باتوں پر ایمان نہیں لائیں گے ( قُلْ لاَتَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکُمْ )۔” کیونکہ خدا نے ہمیں تمہاری خبروں سے آگاہ کردیا ہے “۔ لہٰذا ہم تمہاری شیطانی سازشوںسے اچھی طرح باخبر ہیں ( قَدْ نَبَّاٴَنَا اللهُ مِنْ اٴَخْبَارِکُمْ )۔لیکن اس کے باوجود تمہارے لئے بازگشت اور توبہ کی راہ کھلی ہے ۔ عنقریب خدا اس کا رسول تمہارے اعمال دیکھے گا (وَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ )۔
آیت کی تفسیر کے ضمن میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس جملے سے توبہ مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آئندہ بھی خدا اور اس کا رسول

( وحی کے مطابق ) تمہارے اعلام اور سازشوں سے آگاہ ہو ں گے او رانہیں نقش بر آب کردیں گے لہٰذا نہ تم آج کچھ کرسکتے ہو اور نہ کل۔ 
لیکن پہلی تفسیر ظاہر اایت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔
ضمنی طور پر آپ متوجہ رہیں کہ اس جملے کے ابرے میں اور امت کے تمام اعمال اس کے پیغمبر کے سامنے پیش ہونے کے مسئلے کے متعلق ہم اسی سورہ کی آیہ ۱۰۵ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کریں گے ۔
بعد میں فرمایا گیا ہے کہ تمہارے تمام اعمال اور تمہاری نیتیں ثبت اور محفوظ ہو جائیں گی ” پھر تم اس کی طرف پلٹ جاوٴ گے جو تمہارے پنہاں اور آشکار امور کو جانتا ہے او روہ تمہیں تمہارے اعمال سے آگاہ کرے گا “۔ او رتمہیں ان کی جزا دے گا ( ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ )۔
بعد والی آیت میں دوبارہ منافقین کی جھوٹی قسموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے -: و ہ تمہیں فریب دینے کے لئے عنقریب قسم کا سہارالیں گے اور جب ان کی طرف لوٹو گے تو خدا کی قسم کھائیں گے کہ ان سے صرف نظر کرلو اور اگر ان سے کوئی خطا ہو ئی ہے تو انھیں معاد کردو( سَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَکُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَیھِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْھُمْ )۔
درحقیقت وہ ہر دروازے سے داخل ہونے کی کو شش کریں گے ۔ کبھی بہانوں سے اپنے آپ کے بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ۔ کبھی اعتراف گناہ کریں گے اور عفوو در گزر کا تقاضا کریں گے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ شاید کسی طریقے سے تمہارے دلوں میں جگہ پیدا کرلیں ۔ 
لیکن تم کسی طرح سے بھی ان سے اثر نہ لینا اور ” ان سے منہ پھیر لو“ البتہ ناراضی کے اظہار کے طور پر نہ کہ عفو و بخشش کے طور پر ( فَاٴَعْرِضُوا عَنْھُمْ)
وہ اعراض کا تقا ضا کرتے ہیں لیکن در گذر کے معنی میں ۔ تم بھی اعراض کرو مگر انکار کے معنی میں ۔ یہ دونوں تعبیریں مشابہ ہیں اور بالکل متضاد معانی پیش کرتی ہیں ۔ اس انداز کی لطافت اور خوبصورتی اہل ذوق سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ 
اس کے بعد تاکید ، توضیح او ردلیل کے طور پر فرمایا گیا ہے : کیونکہ وہ لوگ پلید ہیں اور ایسی نجس موجودات سے منہ پھیر نا ہی چاہئیے ( إِنّھُمْ رِجْسٌ)۔ ۔ اور چونکہ ایسے ہیں لہٰذا ان کے لئے جہنم کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہیں ہو سکتا(وَمَاٴْوَاھُمْ جَھَنَّمُ)۔ کیونکہ جنت میں نیک پا ک لوگوں کی جگہ ہے نہ کہ پلید اور گندے لوگوں کی ۔
لیکن ” یہ سب کچھ اعمال کا نتیجہ ہے جوانھوں نے خود انجام دئیے ہیں ( جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ )۔
زیر بحث آخری آیت میں ان کی ایک اور قسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے او روہ یہ ہے کہ ” وہ اصرار کرکے اور قسم کھا کے چاہتے ہیں کہ تم ان سے راضی اور خوش ہو جاوٴ( یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ )۔
پہلی اایت میں جس قسم کا ذکر ہے وہ اس بنا پ رتھی کہ مومنین عملاً انھیں ملامت نہ کریں ۔ لیکن اس آیت میں جس قسم کا تذکرہ ہے وہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ عملی پہلو کے علاوہ مومنین سے دلی طور پر بھی ان سے خوش ہو جائیں ۔ 
یہ امر قابل توجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس مقام پر یہ نہیں فرماتا ہے کہ ” تم ان سے راضی نہ ہونا “ بلکہ یہاں موجود تعبیر سے تہدید کی بو آتی ہے ، فرما یا گیا ہے : اگر تم ان سے راضی ہو جاوٴ تو خدا فاسقین کی قوم سے کبھی راضی نہیں ہو گا ( فَإِنْ تَرْضَوْا عَنھُمْ فَإِنَّ اللهَ لاَیَرْضَی عَنْ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ)۔
اس میں شک کہ دینی اور اخلاقی طور پر وہ مسلمانوں کو خوش نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ اس طرح مسلمانوں کے دل کی ناراضی دور کرنا چاہتے تھے تاکہ آئندہ ان کے عمل سے محفوظ رہیں ۔
لیکن ”لا یرضیٰ عن القوم الفاسقین “کہہ کر خدا تعالیٰ مسلمانوںکو خبر دار کرتا ہے کہ یہ فاسق ہیں لہٰذا مسلمانوں کو ان سے ہر گز راضی نہیں ہو نا چاہئیے۔ یہ فقط ان کی پر فریب چالیں ہیں ۔ لہٰذا بیدار ہوتا کہ ان کے جال میں نہ پھنس جاوٴ۔ 
کیا ہی اچھا ہوکہ ہر زمانے میں مسلمان منافقین کی شیطانی او رجانی پہچانی سازشوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ ان کے سامنے اپنے پرانے پر فریب طریقے استعمال نہ کرسکیں اور اس طرح کہیں وہ اپنے برے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے پائیں ۔


۹۷۔ الْاٴَعْرَابُ اٴَشَدُّ کُفْرًا وَنِفَاقًا وَاٴَجْدَرُ اٴَلاَّ یَعْلَمُوا حُدُودَ مَا اٴَنزَلَ اللهُ عَلَی رَسُولِہِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ۔
۹۸۔ وَمِنْ الْاٴَعْرَابِ مَنْ یَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ مَغْرَمًا وَیَتَرَبَّصُ بِکُمْ الدَّوَائِرَ عَلَیْھِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ۔
۹۹۔ وَمِنْ الْاٴَعْرَابِ مَنْ یُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ اٴَلاَإِنّھَا قُرْبَةٌ لَھُمْ سَیُدْخِلُھُمْ اللهُ فِی رَحْمَتِہِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ۔
ترجمہ 
۷۹۔ بادیہ نشین عربوں کا کفر اور نفاق شدید تر ہے او رجو کچھ خدا نے اپنے پیغمبر پر نازل کیا ہے اس کی حدود ( اور سر حدوں ) کی جہالت کے وہ زیادہ حق دار ہیں اورخدا دانا اور حکیم ہے ۔ 
۹۸۔ (ان)بادیہ نشین عربوں میں سے ( کچھ لوگ ) جو کچھ ( راہ خدا میں ) خرچ کرتے ہیں اسے توان شمار کرتے ہیں اور تمہارے بارے میں دردناک حوادث کی توقع رکھتے ہیں ( حالانکہ) دردناک حوادث ان کے لئے ہیں اور خدا سننے والا او ر دانا ہے ۔ 
۹۹۔ بادیہ نشنین عربوں میں سے ( کچھ اور لوگ ) خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں او رجو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اسے خدا کے ہاں قرب اور پیغمبر کی دعاوٴں کا باعث سمجھتے ہیں ۔ آگاہ رہو کہ یہ ان کے تقرب کا باعث ہیں ۔ خدا بہت جلد انھیں اپنی رحمت میں داخل کردے گا کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔