Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول

										
																									
								

Ayat No : 91-93

: التوبة

لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۹۱وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ ۹۲إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ ۚ رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۹۳

Translation

جو لوگ کمزور ہیں یابیمار ہیں یا ان کے پاس راسِ خدا میں خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ان کے بیٹھے رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ خدا و رسول کے حق میں اخلاص رکھتے ہوں کہ نیک کردار لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہوتا اور اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے. اور ان پر بھی کوئی الزام نہیں ہے جو آپ کے پاس آئے کہ انہیں بھی سواری پر لے لیجئے اور آپ ہی نے کہہ دیا کہ ہمارے پاس سواری کا انتظام نہیں ہے اور وہ آپ کے پاس سے اس عالم میں پلٹے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا رنج تھا کہ ان کے پاس راہ هخدا میں خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے. الزام ان لوگوں پرہے جو غنی اور مالدار ہوکر بھی اجازت طلب کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پسماندہ لوگوں میں شامل ہوجائیں اور خدا نے ان کے دلوں پر مہرلگادی ہے اور اب کچھ جاننے والے نہیں ہیں.

Tafseer

									پہلی آیت کے بارے میں منقول ہے کہ پیغمبر اکرم کے مخلص اصحاب میں سے ایک نے آپ سے عرض کیا : 
میں ایک بوڑھا ، نابینا اور عاجز شخص ہوں یہاں تک کہ میرے پاس کوئی ایسا شخص بھی نہیں جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میدان جہاد میں لے جائے تو کیا میں جہاد میں شرکت نہ کروں تو معذورہوں ؟
پیغمبر اکرم خاموش رہے تو پھر پہلی آیت نازل ہوئی جس میں ایسے افراد کو اجازت دی گئی ہے 
اس شانِ نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ نابینا افراد تک پیغمبر اکرم کو اطلاع دئے بغیرجہاد میں شرکت سے پہلو تہی نہیں کرتے تھے اور اس احتمال کی بنا پر کہ شاید ان کا وجود اس حالت میں بھی مجاہدین کی تشویق یا کثرت ِ لشکر کے لئے مفید ہو وہ رسول اللہ سے اپنی ذمہ داری کے بارے میں پوچھتے تھے ۔ 
دوسری آ یت کے بارے میں بھی روایات میں ہے کہ غریب انصار سے سات افراد رسول اللہ کی خدمت میں حاضرہوئے اور تقاضا کیا کہ انھیں جہاد میں شرکت کے لئے وسائل مہیا کئے جائیں لیکن چونکہ پیغمبر اکرم کے پاس انھیں مہیا کرنے کے لئے وسائل نہ تھے تو آپ نے انھیں نفی میں جواب دیا۔ وہ اشک آلودہ نگاہوں سے آپ کی بار گاہ سے گئے او ربعد میں ” بکاوٴن“ ( رونے والے ) کے نام سے مشہور ہوئے ۔