Tafseer e Namoona

Topic

											

									  منافقین کے بارے میں زیادہ اقدام

										
																									
								

Ayat No : 84-85

: التوبة

وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ ۸۴وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ ۸۵

Translation

اور خبردار ان میں سے کوئی مر بھی جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھئے گا اور اس کی قبر پر کھڑے بھی نہ ہویئے گا کہ ان لوگوں نے خدا اور رسول کا انکار کیا ہے اور حالاُ فسق میں دنیا سے گزر گئے ہیں. اور ان کے اموال و اولاد آپ کو بھلے نہ معلوم ہوں خدا ان کے ذریعہ ان پر دنیا میں عذاب کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ کفر کی حالت میں ان کا دم نکل جائے.

Tafseer

									جب منافقین نے کھلے بندوں جہاد سے منہ موڑ کر خود پردے چاک کردئے اور ان کامعاملہ واضح ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ زیادہ صریح اور زیادہ مستحکم طریقے سے اقدام کریں تاکہ دوسروں کے دماغ سے ہمیشہ کےلئے نفاق او رمنافق سازی کی فکر نکل جائے او رمنافقین بھی جان لیں کہ اسلامی معاشرے میں ان کے لئے کوئی جگہ او رمقام باقی نہیں رہا ۔ 
لہٰذا قرآن فرماتا ہے ۔( منافقین میں سے ) جو کوئی بی مر جائے اس کی نامز کبھی نہ پڑھو(ولا تصل علی احد منھم مات ابداً)۔ اور کبھی بھی اس کی قبر کے پاس طلب بخشش کے لئے کھڑا نہ ہو ( ولا تقم علی قبرہ)۔ 
فی الحقیقت یہ منافقین سے ایک قسم کی منفی اور موٴثر جنگ ہے کیونکہ ان وجوہ سے پاک کرنے کا حکم نہیں دے سکتے تھے لیکن انھیں کافی حد تک بے اعتبار کرنے ، کنارہ کش کرنے اور اسلامی معاشرے سے نکال باہر پھینکنے کے لئے مقابلے کے ایسے منفی طریقے بہت موٴثر تھے ۔ 
ہم جانتے ہیں کہ ایک سچا مومن زندگی میں بھی محترم ہے موت کے بعد بھی اس لئے اسلام نے اس کے غسل ، کفن اور دفن کا حکم دیا ہے تاکہ اسے زیادہ اور خاص احترامات کے ساتھ سپرد ِ خاک کیا جائے یہاں تک کہ اسے دفن کرنے کے بعد اس کی قبر کے پاس آکر اس کے احتمالی گناہوں اور لغزشوں کی خدا سے بخشش طلب کرنے کا حکم دیاگیا ہے ۔ 
اب یہ مراسم اگر کسی شخص کے لئے انجام نہ دئے جائیں تو یہ گویا اسے اسلامی معاشرے سے باہر نکال کر پھینکنے کے مترادف ہے اور اگر اس شخص کو مسترد کردینے والی شخصیت پیغمبر اکرم کی ہو رو اس مسترد شدہ شخص کے مقام پر ایک سخت ضرب ہو گی ۔ در حقیقت یہ سردجنگ اور مقابلے کا ایک چچا تلا طریقہ ہے۔ دور حاضر میں بھی منافقین کے بارے میں مسلمانوں کو ایسے طریقوں سے کام لینا چا ہئیے یعنی جب تک کچھ افراد اظہار اسلام کرتے ہیں اور ظواہر اسلام کے پابند ہیں تو ان سے ایک مسلمان جیسا سلوک کیا جائے اگر چہ ان کا باطن کچھ اور ہو ۔ لیکن اگر وہ خود پردے چاک کردیں اور اپنا نفاق ظاہر کردیں تو پھر ان سے اسلام سے بیگانہ افراد کا سا سلوک کرنا چاہیئے ۔ 
آیت کے آخر میں ایک بار پھر اس حکم کی دلیل واضح کی گئی ہے او ر فرمایا گیا ہے : ” یہ حکم اس بنا پر ہے کہ انھوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر اختیار کیا ہے “(إِنّھُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ )۔” اور جب یہ لوگ دنیا سے گئے ہیں تو فاسق اور فرمان ِ خدا کے مخالف تھے “ وہ نہ اپنے کئے پر پشیمان ہو ئے او رنہ ہی توبہ کے پانی سے انھو ں نے اپنا گناہ آلودہ دامن دھو یا ہے ( وَمَاتُوا وَھُمْ فَاسِقُونَ )۔
مککن ہے اس مقام پر مسلمانوں سے یہ سوال کیا جائے کہ اگر منافقین سچ مچ رحمت الہٰی سے اس قدر ہیں اور مسلمانوں کو چاہئیے کہ ان سے محبت او رلگاوٴ رکھیں تو پھر خدا نے ان سے اس قدر اظہار محبت کیوں کیا ہے اور یہ سب مال اور اولاد ( اقتصادی اور افرادی قوت) انھیں کیوں دی ہے ۔ 
اگلی آیت میں روئے سخں پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے اسی سوال کا جواب دیا ہے : ان کے اموال و اولاد تمہیں کبھی بھی معلوم نہ ہوں (وَلاَتُعْجِبْکَ اٴَمْوَالھُمْ وَاٴَوْلَادُھُمْ )۔کیونکہ ظاہر بین لوگانھیں خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں لیکن ” خدا چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور ول حالت ِ کفر میں مریں (إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اٴَنفُسُھُمْ وَھُمْ کَافِرُونَ) ۔
اس آیت کی نظیر اسی سورہ کی آیہ ۵۵ بھی ہے یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اقتصادی اور افرادی وسائل غیر صالح افراد کے ہاتھ میں ہوں تو نہ صرف سعادت بخش نہیں ہیں بلکہ اکثر اوقات دردِ سر ، مصیبت اور بد بختی کا سبب بھی ہیں کیونکہ ایسے نہ اپنے مال کو بر محل صرف کرتے ہیں کہ ان سے مفید اور اصلاحی نفع حاصل کر سکیں اور نہ ہی ان کی اولادصحیح راہ پر چلنے والی ، صاحب ایمان اور تربیت یافتہ ہوتی ہے کہ جو ان کی آنکھوں کا نور بن سکے اور ان کی زندگی کی مشکلات حل کر سکے ان کے اموال زیادہ تر ہلا ک کردینے والی سر کش ہوا و ہوس کے لئے فتنہ و فساد پید اکرنے کے لئے اور ظلم کے ستونوں کو مستحکم کرنے کے لئے صرف ہوتے ہیں ۔ یہ در اصل خدا فراموشی اور زندگی کے بنیادی مسائل سے غفلت کے سبب ہے ان کی اولادبھی ظالموں اور فاسدلوگوں کی خدمت میں لگ جاتی ہے اورآخر کار مصیبت ہی کا باعث ہوتی ہے ۔ 
البتہ جو لوگ دولت اور افرادی قوت کو بنیاد ی چیز خیال کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ اسے کس طرح صرف کرنا چاہیئے دور سے تو ان کی زندگی بڑی دلفریب معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ان کی اصل زندگی کو ہم قریب سے دیکھیں اور اس حقیقت کی طرف بھی توجہ رکھیں کہ ان وسائل سے کس طرح استفادہ کیا جانا مقصود ہے تو ہم تصدیق کریں گے کہ وہ خوش بخت لوگ نہیں ہیں ۔