Tafseer e Namoona

Topic

											

									  تفسیر

										
																									
								

Ayat No : 49

: التوبة

وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي ۚ أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا ۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ ۴۹

Translation

ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم کو اجازت دے دیجئے اور فتنہ میں نہ ڈالئے تو آگاہ ہوجاؤ کہ یہ واقعا فتنہ میں گر چکے ہیں اور جہنّم تو کافرین کو ہر طرف سے احاطہ کئے ہوئے ہے.

Tafseer

									کچھ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جب پیغمبر اسلام مسلمانوں کو جنگ تبوک کے لئے تیار کررہے تھے اور اس کے لئے جانے کی دعوت دے رہے تھے بنی سلمہ قبیلے کا ایک سردار جدّ بن قیس آپ کی خدمت میں آیا ۔یہ منافقین میں سے تھا ۔ اس نے عرض کی: اگر آپ اجازت دیں تو میں اس میدان جنگ میں حاضر نہ ہوں کیوں کہ مجھے عورتوں سے بہت پیار ہے مخصوصا اگر میری نظر رومی لڑکیوں پر جاپڑی تو ہوسکتا ہے میں دل ہار بیٹھوں اور ان پر عاشق ہوجاؤں اور میدان سے ہاتھ کھینچ لوں ۔
اس پر پیغمبر اکرم نے اسے اجازت دے دی ۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں اس شخص کے کردار کی مذمت کی گئی ہے ۔
پیغمبر اسلام نے بنی سلمہ کے ایک گروہ کی طرف رخ کرکے فرمایا : تمہارا سردار اور بڑا کون ہے؟
انہوں نے کہا: جد ّبن قیس، لیکن وہ بخیل اور ڈرپوک شخص ہے ۔
آپ نے فرمایا: بخل سے بڑھ کر کونسا درد ہے، پھر فرمایا-: تمہارا سردار وہ سفید رو جوان بشر بن براء ہے(جو کہ بہت سخی اور کشادہ روا انسان ہے) ۔