دوسرا فلسفہ :اجتماعی کاوشیں
وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ ۖ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ۳۰اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۳۱يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ۳۲هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ۳۳
اور یہودیوں کا کہنا ہے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں یہ سب ان کی زبانی باتیں ہیں-ان باتوں میں یہ بالکل ان کے مثل ہیں جو ان کے پہلے کفار کہا کرتے تھے ,اللہ ان سب کو قتل کرے یہ کہاں بہکے چلے جارہے ہیں. ان لوگوں نے اپنے عالموں اور راہبوں اور مسیح بن مریم کو خدا کو چھوڑ کر اپنا رب بنالیا ہے حالانکہ انہیں صرف خدائے یکتا کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ واحد و بے نیاز ہے اور ان کے مشرکانہ خیالات سے پاک و پاکیزہ ہے. یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نو» خدا کواپنے منہ سے پھونک مار کر بجھا دیں حالانکہ خدا اس کے علاوہ کچھ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ اپنے نور کو تمام کردے چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی برا کیوںنہ لگے. وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو.
سچے انتظارکرنے والوں کی ساتھ ساتھ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فقط اپنی اصلاح نہ کریںبلکہ ایک دوسرے کے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں کیوں نکہ جس عظیم اور بھاری پروگرام کی تکمیل کے وہ منتظر ہیں انفرادی نہیں بلکہ ایساپروگرام ہے جس میں تمام عناصرانقلاب کو شرکت کرنا ہوگی لہٰذا کام گروہی اور اجتماعی صورت میں ہونا چاہیے مساعی اور کاوشیں ہم آہنگ ہونا چاہئیں،اس ہم آہنگی کی گہرای اور وسعت اس عالمی انقلاب کے پروگرام کی عظمت کے مطابق ہونا چاہیے کہ جس کا وہ انتظار کر رہے ہیں ۔
ایک اجتماعی اور وسیع جنگ کے میدان میں کوئی شخص دوسروں کے حال سے غافل نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے،کہ کمزوری کا کوئی نقطہ اسے جہاں نظر آئے اس کی اصلاح کرے اور جو بھی نقصان زدہ جگہ ہو اس کی مرمت کرے اور کمزور حصے کو تقویت پہنچائے کیوں کہ میدان جنگ میں موجود تمام مجاہدین کی فعال اور ہم آہنگ شرکت کے بغیر ایسے پروگرام کو عملی شکل دینا ممکن نہیں ہے ۔
لہٰذاحقیقی انتظار کرنے والے نہ صرف اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی بھی اصلاح کریں ۔
یہ ہے ایک عالمی مصلح کے قیام کے انتظار کا ایک اور تعمیری اور تربیتی اثر اور یہ ہے فلسفہ ان تمام فضیلتوں کا جو ایک سچے انتظار کرنے والے کے لیے شمار کی گئی ہیں ۔