Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ نور خدا کو بجھانے کی مساعی کا دو مرتبہ ذکر:

										
																									
								

Ayat No : 30-33

: التوبة

وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ ۖ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ۳۰اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۳۱يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ۳۲هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ۳۳

Translation

اور یہودیوں کا کہنا ہے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں یہ سب ان کی زبانی باتیں ہیں-ان باتوں میں یہ بالکل ان کے مثل ہیں جو ان کے پہلے کفار کہا کرتے تھے ,اللہ ان سب کو قتل کرے یہ کہاں بہکے چلے جارہے ہیں. ان لوگوں نے اپنے عالموں اور راہبوں اور مسیح بن مریم کو خدا کو چھوڑ کر اپنا رب بنالیا ہے حالانکہ انہیں صرف خدائے یکتا کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ واحد و بے نیاز ہے اور ان کے مشرکانہ خیالات سے پاک و پاکیزہ ہے. یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نو» خدا کواپنے منہ سے پھونک مار کر بجھا دیں حالانکہ خدا اس کے علاوہ کچھ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ اپنے نور کو تمام کردے چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی برا کیوںنہ لگے. وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو.

Tafseer

									نورِ خدا کو بجھانے کی کوششوں کا ذکر قرآن میں دو مواقع پر آیا ہے ۔ ایک زیرِ بحث آیت میں اور دوسرا سورہٴ صف کی آیہ۱۸ میں، دونوں مقامات پر یہ بات دشمنانِ اسلام کی مساعی پر تنقید کے طور پر ہے لیکن ان دونوں آیات میں تھوڑا سا فرق نظر آتا ہے، زیر بحث آیت میں ہے: ”یریدون اٴن یطفئوا“ جبکہ سورہٴ صف میں ہے: ”یریدون لیطفئوا“ 
تعبیر کا یہ فرق یقیناً کسی نکتے کی طرف اشارہ ہے، مفردات میں راغب ان دونوں تعبیرات کے فرق کی وضاحت کے سلسلے میں کہتا ہے کہ پہلی آیت میں بغیر مقدمہ ووسیلہ کے بجھانے کی طرف اشارہ ہے لیکن دوسری آیت میں مقدمات واسباب کے ذریعے بجھانے کی طرف اشارہ ہے، یعنی وہ اسباب کے بغیر یا پورے وسائل کے ساتھ نورِ حق کو بجھانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا ۔