ایک اصلاحی درس
وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ ۖ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ۳۰اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۳۱يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ۳۲هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ۳۳
اور یہودیوں کا کہنا ہے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں یہ سب ان کی زبانی باتیں ہیں-ان باتوں میں یہ بالکل ان کے مثل ہیں جو ان کے پہلے کفار کہا کرتے تھے ,اللہ ان سب کو قتل کرے یہ کہاں بہکے چلے جارہے ہیں. ان لوگوں نے اپنے عالموں اور راہبوں اور مسیح بن مریم کو خدا کو چھوڑ کر اپنا رب بنالیا ہے حالانکہ انہیں صرف خدائے یکتا کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ واحد و بے نیاز ہے اور ان کے مشرکانہ خیالات سے پاک و پاکیزہ ہے. یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نو» خدا کواپنے منہ سے پھونک مار کر بجھا دیں حالانکہ خدا اس کے علاوہ کچھ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ اپنے نور کو تمام کردے چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی برا کیوںنہ لگے. وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو.
قران مجید مندرجہ بالا آیت میں اپنے پیروکاروں کو ایک بہت ہی قیمتی درس دیتا ہے اور توحید کا ایک اعلیٰ ترین مفہوم اس سلسلے میں دلنشین کرواتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی مسلمان یہ حق نہیں رکھتا کہ کسی انسان کی بلاشرط اطاعت قبول کرلے کیونکہ یہ کام اس کی پرستش کے مساوی ہے، تمام اطاعتیں اطاعتِ الٰہی میں محدود ہونا چاہئیں اور حکم انسانی کی پیروی اس وقت تک ہی جائز ہے جب تک قوانینِ خداوندی کے مخالفت نہ ہو چاہے حکم دینے والا انسان کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کتنا ہی بلند مقام کیوں نہ رکھتا ہو۔
ایسا اس لئے ہے کہ بلاشرط اطاعت عبادت کے مساوی ہے اور بت پرستی اور عبودیت کی ایک شکل ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے مسلمان اس اہم اسلامی حکم سے دور ہونے اور انسانی بت بنالینے کی وجہ سے تفرقہ بازی، پراگندگی، استعمار اور استثمار کا شکار ہوگئے ہیں، جب تک یہ بت نہیں توڑے جائیں گے اور انھیں دور نہ کیا جائے گا اس وقت تک بے سروسامانیاں اور پریشانیاں برطرف نہیں ہوسکتیں ۔
اصولی طور پر ایسی بت پرستی زمانہ جاہلیت کی بت پرستی کہ جس میں پتھر اور لکڑی کے سامنے سجدہ کیا جاتا تھا سے زیادہ خطرناک ہے ۔ کیونکہ وہ بے روح بت اپنے پجاریوں کا کبھی استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن انسان جب بتوں کی جگہ لیتے ہیں تو وہ اپنی خود غرضی کی بناء پر اپنے پیروکاروں کو اپنی قید کی زنجیروں میں جکڑ لیتے ہیں اور انھیں ہر طرح کی پستی اور بدبختی میں مبتلا کرتے ہیں ۔
زیرِ بحث آیات میں سے تیسری میں قرآن نے یہودیوں اور عیسائیوں یا تمام مخالفینِ اسلام یہاں تک کہ مشرکین کی بھی جان توڑ اور بے نتیجہ کوششوں کو ایک جاذب نظر تشبیہ کے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ چاہتے ہیں کہ اپنی پھونکوں سے نورِ خدا کو خاموش کردیں لیکن خدا کا ارادہ ہے کہ اس نورِ الٰہی کو اس طرح وسیع اور کامل کردے یہاں تک کہ وہ تمام دنیا پر چھاجائے اور تمام لوگ اس کے سائے سے مستفید ہوں اگرچہ کافروں کو یہ ناپسند ہے (یُرِیدُونَ اٴَنْ یُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِاٴَفْوَاہِھِمْ وَیَاٴْبَی اللهُ إِلاَّ اٴَنْ یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ) ۔