Tafseer e Namoona

Topic

											

									  تفسیر

										
																									
								

Ayat No : 159-160

: الاعراف

وَمِنْ قَوْمِ مُوسَىٰ أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ۱۵۹وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ۱۶۰

Translation

اور موسٰی علیھ السّلام کی قوم میں سے ایک ایسی جماعت بھی ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور معاملات میں حق وانصاف کے ساتھ کام کرتی ہے. اور ہم نے بنی اسرائیل کو یعقوب علیھ السّلام کی بارہ اولاد کے بارہ حصّو ں پر تقسیم کردیا اور موسٰی علیھ السّلام کی طرف وحی کی جب ان کی قوم نے پانی کا مطالبہ کیا کہ زمین پر عصا ماردو -انہوں نے عصا ماراتو بارہ چشمے جاری ہوگئے اس طرح کہ ہر گردہ نے اپنے گھاٹ کو پہچان لیا اور ہم نے ان کے سروں پر ابر کا سایہ کیااور ان پر من و سلوٰی جیسی نعمت نازل کی کہ ہمارے دیئے ہوئے پاکیزہ رزق کو کھاؤ اور ان لوگوں نے مخالفت کرکے ہمارے اوپر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ اپنے ہی نفس پر ظلم کررہے تھے.

Tafseer

									پچھلی آیات کا تسلسل باقی رکھتے ہوئے، ان دو آیتوں میں بھی پروردگارِ عالم نے بنی اسرائیل کے لئے اپنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ انھوں نے اپنی سرکشی اور طغیان کے ذریعے کسی طرح اس کا بدلہ دیا ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب ان لوگوں سے کہا گیا کہ اس سرزمین (بیت المقدس) میں سکونت اختیار کرو اور وہاں کی بکثرت نعمتوں سے، ہر جگہ سے جس طرح چاہو استفادہ کرو (وَإِذْ قِیلَ لَھُمْ اسْکُنُوا ھٰذِہِ الْقَرْیَةَ وَکُلُوا مِنْھَا حَیْثُ شِئْتُمْ) ۔
اور ہم نے ان سے کہا ”خداسے اپنے گناہوں کے جھڑنے اور اپنی خطاؤں کے بخشے جانے کی درخواست کرو اور بیت المقدس میں بڑی فروتنی کے ساتھ داخل ہوجاؤ (وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا) ۔
”پس اگر تم نے اس بات پر عمل کیا تو ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے اور تم میں سے جو نیکوکار ہیں انھیں بہتر بدلہ عطا کریں گے“ (نَغْفِرْ لَکُمْ خَطِیئَاتِکُمْ سَنَزِیدُ الْمُحْسِنِینَ) ۔
لیکن باوجودیکہ الله کی رحمت کے دروازے ان پر کھول دیئے گئے تھے اور انھیں اس بات کا موقع دیا گیا تھا کہ اگر وہ اس موقع سے استفادہ کریں تو اپنے گذشتہ اور آئندہ اعمال کی اصلاح کرلیں مگر بنی اسرائیل کے ظالموں نے نہ صرف یہ کہ اس موقع سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ انھوں نے فرمانِ پروردگار کے برعکس عمل کیا 
(فَبَدَّلَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَھُمْ) ۔
”آخرکار ان کی اس نافرمانی اور اپنی حانوں پر ستم کرنے کی وجہ سے ہم نے ان پر آسمان سے عذاب نازل کیا“ (فَاٴَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُوا یَظْلِمُونَ) ۔
اس بات کی طرف بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ ان دونوں آیتوں کا مضمون بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ سورہٴ بقرہ کی آیت ۵۸ اور ۵۹ میںآچکا ہے اور اس کی تفسیر بھی ہم شرح وبسط کے ساتھ وہاں بیان کرچکے ہیں(۱)
دونوں مقامات پر جو فرق ہے وہ صرف اتنا ہے کہ یہاں پر آخر میں فرمایا گیا ہے: ”بِمَا کَانُوا یَظْلِمُونَ“ اور وہاں ارشاد ہوا ہے: ”بِمَا کَانُوا یَفْسقُونَ“اور شاید ان دونوں کا فرق اس وجہ سے ہو کہ گناہوں کے دو رخ ہوتے ہیں، ایک وہ جس کا تعلق خدا سے ہوتا ہے دوسرا وہ جس کا تعلق خود انسان سے ہوتا ہے، سورہٴ بقرہ کی آیت میں لفظ ”فسق“ استعمال کیا گیا ہے جس کا مفہوم ہے: ”پروردگارِ عالم کے فرمان سے خروج“ جبکہ اِس آیت میں ”ظلم“ سے تعبیر کرکے دوسرے رخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

 

۱۔ ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد اوّل.