Tafseer e Namoona

Topic

											

									  احادیث اسلامی اور شفاعت

										
																									
								

Ayat No : 47-48

: البقرة

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ۴۷وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ ۴۸

Translation

اے بنی اسرائیل! ہماری ان نعمتوں کویاد کرو جو ہم نے تمہیں عنایت کی ہیں اور ہم نے تمہیں عالمین سے بہتر بنایا ہے. اس دن سے ڈرو جس دن کوئی کسی کابدل نہ بن سکے گا اور کسی کی سفارش قبول نہ ہوگی. نہ کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ کسی کی مدد کی جائے گی.

Tafseer

									میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے ہے۔
ابن عمیر جو راوی حدیث ہے کہتا ہے :
میں نے امام کاظم سے پوچھا کہ گناہان کبیرہ کا ارتکاب کرنے والوں کی شفاعت کیسے ممکن ہے حالانکہ خدا وند عالم فر ماتا ہے ” ولا یشفعون الا لمن ارتضی “ مسلم ہے کہ جو شخص کبائر کا مرتکب ہوتا ہے ۔وہ ارتضی اور خوشنودی خدا سے دور ہوجاتا ہے ۔
اما م نے جواب دیا :
جو با ایمان شخص گناہ کا مرتکب ہوتا ہے وہ طبعا پشیمان ہوتا ہے اور نبی اکرم نے فرمایا ہے کہ گناہ سے پشیمانی توبہ ہے اور جو شخص پشیمان نہ ہو وہ حقیقی مومن نہیں اور اس کے لئے شفاعت بھی نہیں ہے اور ایک گناہ ایک ظلم ہے ۔ خدا وند عالم فرماتا ہے : ظالموں کے لئے دوست اور شفاعت کرنے والے نہیں ہیں ۱ 
صدر حدیث کا مضمون یہ ہے کہ شفاعت کبائر کے مرتکب لوگوں کے لئے ہے حدیث کا ذیل یہ واضح کرتا ہے کہ شفاعت کے قبول ہونے کی اصلی شرط یہ ہے کہ جس کی شفاعت کی جارہی ہے اس میں ایسا ایمان ہو جو مجرم کو ندامت خود سازی ، ازالہ ء گناہ اور اصلاح کے مرحلے تک پہنچادے اور ظلم ، طغیان اور قانون شکنی سے اپنے آپ کو نکال لے اور اس کے بغیر شفاعت ممکن ہی نہیں ہے ( غور کیجیے گا )
ب ۔ کتاب کافی میں امام صادق سے اس خط میں جو آپ نے متحد المال کی صورت میں اپنے اصحاب کو لکھا ہے ، منقول ہے :
من سرہ ا ن ینفعہ شفاعة الشافعین عند اللہ فلیطلب الی الللہ ان یر ضی عنہ ۲
اس روایت کا لب ولہجہ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ اشتباہات کے ازالے کے لئے ہے جو شفاعت کے سلسلے میں حضرت صادق کے بعض اصحاب کو خصوصاََ اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو عموما ہوگئے تھے ۔ اس میں صراحت کے ساتھ گناہ کا شوق دلانے والی شفاعتون کی نفی کی گئی ہے ۔ روایت کے مطابق ” جو شخص پسند کرتا ہے کہ اسے شفاعت نصیب ہو اسے چاہیئے کہ خدا کی خو شنودی حاصل کرے “۔
ج۔ ایک اور پر معنی حدیث حضر ت صادق سے یوں مروی ہے :
اذا کان یوم القیامة بعث اللہ العالم والعابد فاذا وقفا بین ید ی اللہ عز وجل قیل اللعابد انطق الی الجنةو قیل اللعالم قف تشفع للناس بحسن تادیبک لھم ۔
قیامت کے دن خدا وندے تعالیٰ عالم اور عابد کو قبر سے اٹھائے گا ، عابد سے کہے گا اکیلے بہشت میں چلے جاؤ لیکن عالم سے کہے گا جن لوگوں کی اچھی تربیت کی ہے ان کی شفاعت کرو ۳
اس حدیث میں عالم نے جو ادب و اخلاق کی تعلیم دی ہے اور اس کے شاگرد جہنوں نے اس سے سبق حاصل کیا ہے کی شفاعت کے درمیان ایک ربط و تعلق نظر آ تا ہے ۔ اس سے اس بحث کے تاریک پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے ۔
علاوہ از ایں شفاعت کا عالم سے مخصوص ہونا اور عابد سے اس کی نفی اس بات کی نشاندہی ہے کہ منطق اسلا م کی رو سے شفاعت کسی عہد و پیمان اور پا رٹی بازی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکتب تربیت ہے اور اس جہان میں تربیت کی تصو یر کشی ہے ۔

 


۱ تفسیر برہان ، ج ۳ ، ص ، ۵۳
۲ نقل از بحار ، ج ۳ ،ص ۳۰۴ ( قدیم اشاعت )
۳ بحار ، ج ۳ ، ص ۳۰۵ بحوالہ اختصاص مفید