Tafseer e Namoona

Topic

											

									  حضرت موسیٰ (علیه السلام) سے بت سازی کی فرمائش

										
																									
								

Ayat No : 138-141

: الاعراف

وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَهُمْ ۚ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ۱۳۸إِنَّ هَٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۱۳۹قَالَ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ۱۴۰وَإِذْ أَنْجَيْنَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ ۱۴۱

Translation

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار پہنچا دیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جو اپنے بتوں کے گرد مجمع لگائے بیٹھی تھی -ان لوگوں نے موسٰی علیھ السّلامسے کہا کہ موسٰی علیھ السّلامہمارے لئے بھی ایسا ہی خدا بنادو جیسا کہ ان کا خدا ہے انہوں نے کہا کہ تم لوگ بالکل جاہل ہو. ان لوگوںکا نظام برباد ہونے والا اور ان کے اعمال باطل ہیں. کیا میں خدا کے علاوہ تمہارے لئے دوسرا خدا تلاش کروں جب کہ اس نے تمہیں عالمین پر فضیلت دی ہے. اور جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب میں مبتلا کررہے تھے تمہارے لڑکوں کو قتل کررہے تھے اور لڑکیوں کو خدمت کے لئے باقی رکھ رہے تھے اور اس میں تمہارے لئے پروردگار کی طرف سے سخت ترین امتحان تھا.

Tafseer

									ان آیات میں بنی اسرائیل کی سرگزشت کے ایک اور اہم حصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ واقعہ فرعونیوں پر ان کی فتحیابی کے بعد ہوا، اس واقعے سے بت پرستی کی جانب ان کی توجہ ظاہر ہوتی ہے، اس کی ابتدا کا ذکر ان آیات میں آیاہے اور اس کے انجام کا مفصل ذکر سورہٴ ”طہ“ سے آیات ۸۶تا ۹۷میں آیا ہے اور مختصر طور پر اسی سورہ کی آیت ۱۴۸ میں بھی ہے ۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) فرعون کے جھگڑے سے نکل چکے تو ایک اور داخلی مصیبت شروع ہوگئی جو بنی اسرائیل کے جاہل ، سرکش اور ضدی افراد کی وجہ سے پیش آئی، جیسا کہ آگے معلوم ہوگا حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے لئے یہ داخلی کشمکش، فرعون اور فرعونیوں کے ساتھ جنگ کرنے سے بدرجہ سخت اور سنگین تر تھی اور ہر داخلی کشمکش کا یہی حال ہوا کرتا ہے ۔
پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو دریا (نیل) کے اس پار لگادیا(وَجَاوَزْنَا بِبَنِی إِسْرَائِیلَ الْبَحْرَ ) ۔
لیکن ”انھوں نے راستے میں ایک قوم کو دیکھا جو اپنے بتوں کے گرد خضوع اور انکساری کے ساتھ اکٹھا تھے“ (فَاٴَتَوْا عَلیٰ قَوْمٍ یَعْکُفُونَ عَلیٰ اٴَصْنَامٍ لَھُمْ) ۔
”عاکف“ ”عکوف“ سے ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی طرف احترام کے ساتھ توجہ کرنا ۔
امت موسیٰ (علیه السلام) کے جاہل افراد یہ منظر دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ فوراً حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے پاس آن کر ”وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! ہمارے واسطے بھی بالکل ویسا ہے معبود بنا دو جیسا معبود ان لوگوں کا ہے“ ( قَالُوا یَامُوسیٰ اجْعَل لَنَا إِلَھًا َمَا لَھُمْ آلِھَة) ۔
حضرت موسیٰ (علیه السلام)ان کی اس جاہلانہ اور احمقانہ فرمائش سے بہت ناراج ہوئے، آپ نے ان لوگون سے کہا: تم لوگ جاہل اور بے خبر قوم ہو

 
( قَالَ إِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُونَ ) ۔