Tafseer e Namoona

Topic

											

									  (۱۱) عالم تکوین میں شفاعت

										
																									
								

Ayat No : 47-48

: البقرة

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ۴۷وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ ۴۸

Translation

اے بنی اسرائیل! ہماری ان نعمتوں کویاد کرو جو ہم نے تمہیں عنایت کی ہیں اور ہم نے تمہیں عالمین سے بہتر بنایا ہے. اس دن سے ڈرو جس دن کوئی کسی کابدل نہ بن سکے گا اور کسی کی سفارش قبول نہ ہوگی. نہ کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ کسی کی مدد کی جائے گی.

Tafseer

									 جو کچھ ہم نے صحیح اور منطقی شفاعت کے بارے میں کہا ہے اس کا مشاہدہ عالم تشریع کے علاوہ تکوین وخلقت کی دنیا میں بہت کیا جاسکتا ہے ۔ اس دنیا کی طاقت ور قوتیں ضعیف قوتوں سے مل جاتی ہیں اور انہیں اصلاحی اغراض کے راستوں پر آگے لے چلتی ہیں ۔ سورج چمکتا ہے ۔ بارش برستی ہے ، بیج زمین کے دل میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی اندرونی استعداد کو بروئے کار لائے اور پہلی زندگی کی کونپلوں کو زمین سے باہر بھیجے ، اس طرح کہ دانے کے چھلکے کا زندان چاک کیا جائے ۔ظلمت کدہٴ خاک سے سر باہر نکالا جائے اور آسمان کی طرف آگے بڑھا جائے جس سے اس نے قو ت حاصل کی تھی ۔
زندگی کی اٹھان میں یہ سب بہاریں در حقیقت ، شفاعت تکوینی کی ایک قسم ہیں اگر اس قسم کی شفاعت کے مشاہدے سے ہم عالم تشریع میں بھی اس کے قائل ہوجائیں تو ہم نے راہ مستقیم اختیار کی ہے جس کی وضاحت ہم عنقریب کریں گے ۔