Tafseer e Namoona

Topic

											

									  آخر کار حق نے کیسے فتح پائی

										
																									
								

Ayat No : 113-122

: الاعراف

وَجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ ۱۱۳قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ۱۱۴قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ ۱۱۵قَالَ أَلْقُوا ۖ فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ ۱۱۶وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ۱۱۷فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۱۱۸فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوا صَاغِرِينَ ۱۱۹وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ ۱۲۰قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۱۲۱رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ ۱۲۲

Translation

جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہمیں اس کی اجرت ملے گی. . فرعون نے کہا بیشک تم میرے دربار میں مقرب ہوجاؤ گے. ان لوگوں نے کہا کہ موسٰی علیھ السّلامآپ عصاپھیکنیں گے یا ہم اپنے کام کا آغاز کریں. موسٰی علیھ السّلامنے کہا کہ تم ابتدا کرو -ان لوگوں نے رسیاں پھینکیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوفزدہ کردیا اور بہت بڑے جادو کا مظاہرہ کیا. اور ہم نے موسٰی علیھ السّلامکو اشارہ کیا کہ اب تم بھی اپنا عصا ڈال دو وہ ان کے تمام جادو کے سانپوں کو نگل جائے گا. نتیجہ یہ ہوا کہ حق ثابت ہوگیا اور ان کا کاروبار باطل ہوگیا. وہ سب مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر واپس ہوگئے. اور جادوگر سب کے سب سجدہ میں گر پڑے. ان لوگوں نے کہا کہ ہم عالمین کے پروردگار پر ایمان لے آئے. یعنی موسٰی علیھ السّلاماور ہارون علیھ السّلامکے رب پر.

Tafseer

									ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور ساحروں کے مقابلے اور آخر میں اس کے نتیجے کے متعلق گفتگو کی گئی ہے، پہلی آیت میں قرآن فرماتا ہے : جادوگر فرعون کے بلانے پر اس کے پاس آئے اور انھوں نے جو سب سے پہلی بات پیش کی وہ یہ تھی کہ اگر ہم کو موسیٰ پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم کو معقول صلہ ملے گا (وجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا إِنَّ لَنَا لَاٴَجْرًا إِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِینَ ) ۔
اگرچہ لفظ ”اجر“ کے معنی ہر قسم کی پاداشت اور معاوضے کے ہیں وہ کم ہو یا زیادہ لیکن چونکہ یہاں پر ”اجر“” نکرہ “کے ساتھ آیاہے اس لئے اس کے معنی زیادتی اور اہمیت کے ہیں، خصوصاً یہ کہ ان کو اجر ملنا تو یقینی تھا لہٰذا جس چیز کا ان کو فرعون سے پہلے سے وعدہ لینا مقصود تھا وہ اہم اجر اور زیادہ معاوضہ لینے کامسئلہ تھا فرعون نے بھی بغیر کسی توقف کے ان کی بات مان لی اور کہا: تم کو نہ صرف یہ کہ اہم اجر اور خاطر خواہ معاوضہ ملے گا بلکہ تم میرے دربارکے مقرب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے ( قَالَ نَعَمْ وَإِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ ) ۔
اس طرح فرعون نے ان کو ”مال وزر“ کا بھی وعدہ دیا، اور ”بڑے منصب “ کی بھی بات کی، آیت کی اس تعبیر سے پتہ چلتا ہے کہ فرعون کے دربار میں تقرب حاصل کرنا مال و ثروت سے بھی اہم بات تھی اور یہ ایک معنوی درجہ شمار ہوتا تھا گویا جو بھی اس پر فائز ہوگیا دولت اس کے پاؤں چومنے لگتی تھی ۔
آخر کار حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور جادوگروں کے کے مقابلہ کے لئے ایک دن طے پایا، جیسا کہ سورہ ”طہ“ اور شعراء دونوں میں آیا ہے، اس مقابلے کو دیکھنے کے لئے تمام لوگوں کو دعوت عام دی گئی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا ۔
روز معین آیا، تمام جادوگر اپنے سازوسامان سے لیس ہوکر پہنچ گئے، وہ اپنے ہمراہ بہت سی رسیاں اور لاٹھیاں بھی لائے جن کے اندر کیمیاوی مادے بھر ہوئے تھے ، جن پر اگرآفتاب کی حرارت پڑے تو ان میں حرکت پیدا ہوتی ہے ۔
یہ ایک عجیب منظر تھا کیوں کہ اتنے بڑے انبوہ کے مقابلے میں صرف حضرت موسیٰ (علیه السلام) اپنے بھائی ہارون (علیه السلام) کے ساتھ حاضر تھے اور ان کے ساتھ سوائے خدا کے کوئی بھی نہ تھا ۔
ساحروںنے ایک خاص غرور کے ساتھ موسیٰ (علیه السلام) سے کہا: یا تو تم پہل کرو اور اپنا عصا پھینکو یا ہم آغاز کرتے ہیں، اور اپنے وسائل پھینکتے ہیں

 
 ( قَالُوا یَامُوسیٰ إِمَّا اٴَنْ تُلْقِیَ وَإِمَّا اٴَنْ نَکُونَ نَحْنُ الْمُلْقِینَ ) ۔
حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے بڑے سکون کے ساتھ جواب دیا: تم شروع کرو اور اپنے وسائل پھینکو(قَالَ اٴَلْقُوا) ۔
”جس وقت ان جادوگروں نے اپنی اپنی رسیوں کو میدان میں پھینکا، تو انھوں نے لوگوں کی نظر بندی کردی اور اپنے اعمال اور مبالغہ آمیز اقوال سے لوگوں کے دلوں میں خوف و وحشت پیدا کردی اور ایک بڑے جادو کا تماشہ ان کو دکھایا“ (فَلَمَّا اٴَلْقَوْا سَحَرُوا اٴَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوھُمْ وَجَائُوا بِسِحْرٍ عَظِیمٍ ) ۔
جیسا کہ ہم تفسیر نمونہ کی جلد اول آیت ۱۰۲ کے ذیل میں بیان کرآئے ہیں”سحر“ کے معنی اصل میں دھوکا، نیرنگ، شعبدہ اور ہاتھ کی صفائی کے ہیں اور کبھی یہ لفظ ہر اس چیز کے لئے آتا ہے جس کا سبب نامرئی ومرموزہو ۔
بنابریں اس لفظ کے ذیل میں وہ تمام افراد آجائیں گے جو ہاتھ کی صفائی، ہاتھ کی تیز حرکات اور مہارت کے ذریعے چیزوں کو اس طرح ادھر ادھر کردیتے ہیں کہ ایک خارق عادت کام معلوم ہوتا ہے، نیز وہ لوگ بھی اس میں داخل ہوجائیں گے جو کیمیکل کے ذریعے یا فزکس کے قوانین کے ذریعہ لوگوں کو عجیب طرح کے کھیل تماشے دکھلائیں، ان سب کو ”ساحر“ کہا جائے گا ۔
اس کے علاوہ جادوگروںکا ایک شیوہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی وہ اپنی زبان سے بھی کچھ ایسے کلمات کہتے جاتے ہیں جن کا اثر لوگوں کے ذہنوں پر نفسیاتی حیثیت سے پڑتا ہے وہ کلمات ایسے وحشتناک اور ہولناک ہوتے ہیں جو حاضرین کے دلوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں جادوگر جس خارق عادت امر کا تماشہ دکھانا چاہتا ہے اس کے لئے ایک طرح سے ذہن ہموار ہوجاتی ہے، اس سورة میں نیز دیگر سورتوں میں جو آیات وارد ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان جادوگروں نے اس روزان تمام وسائل سحر سے کام لیا تھا، یہ جملہ ”سحروآاعین الناس“(لوگوں کی نظر بندی کردی)، یا یہ جملہ ”استرھبوھم“(لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کردیا )یا دوسری تعبیرات جو سورہٴ طہ اور شعراء ،میں آئی ہیں اس امر کی شاہد ہیں ۔(۱) 

 

۱۔ حقیقت سحر کی مزید توضیح کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد اول(صفحہ ۲۸۵تا صفحہ ۲۸۹ اردوترجمہ )ملاحظہ ہو ۔