زندگی ۔ ایمان اور تقویٰ کے زیر سایہ
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ۹۶أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ ۹۷أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ ۹۸أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ ۹۹أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ أَهْلِهَا أَنْ لَوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ۱۰۰
اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی گرفت میں لے لیا. کیا اہلِ قریہ اس بات سے مامون ہیں کہ یہ سوتے ہی رہیں اور ہمارا عذاب راتوں رات نازل ہوجائے. یا اس بات سے مطمئن ہیں کہ یہ کھیل کود میں مصروف رہیں اور ہمارا عذاب دن دھاڑے نازل ہوجائے. کیا یہ لوگ خدائی تدبیر کی طرف سے مطمئن ہوگئے ہیں جب کہ ایسا اطمینان صرف گھاٹے میں رہنے والوں کو ہوتا ہے. کیا ایک قوم کے بعد دوسرے زمین کے وارث ہونے والوں کو یہ ہدایت نہیں ملتی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کے گناہوں کی بنا پر انہیں بھی مبتلائے مصیبت کردیتے اور ان کے دلوں پر مہرلگادیتے اور پھر انہیں کچھ سنائی نہ دیتا.
پچھلی آیات میں کچھ قوموں کی مختصر سرگزشت بیان کی گئی ہے، جیسے حضرت نوح (علیه السلام)، حضرت لوط (علیه السلام)، حضرت ہود (علیه السلام)، حضرت صالح (علیه السلام)، حضرت شعیب (علیه السلام) کی قومیں، اگرچہ یہ آیتیں بجائے خود ان کی عبرت انگیز نتائج کے بیان کرنے کے لئے کافی ووافی ہیں، لیکن زیر بحث آیات میں مزید وضاحت کے ساتھ ان واقعات کے نتائج کو بیان کیا گیا ہے، اشارہ ہوتا ہے: یہ لوگ جو ان آبادیوں اور دیگر شہروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اگر طغیان وسرکشی، تکذیب آیات الٰہی اور ظلم وفساد کی بجائے ایمان لے آئیں اور اس کے سائے میں تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کریں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ نہ صرف عذاب الٰہی سے بچ جائیں گے بلکہ ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے بھی کھول دیں گے
(وَلَوْ اٴَنَّ اٴَھْلَ الْقُریٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔
لیکن افسوس! انھوں نے صراط مستقیم، جو سعادت وخوش بختی اور رفاہیت وسلامتی کی راہ تھی، کو چھوڑ دیا اور ”خدا کے پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کے اصلاحی منصوبوں کو اپنے پیروں تلے روند ڈالاتو ہم نے بھی انھیں ان کے اعمال بد کے جرم میں سزا دی“(وَلَکِنْ کَذَّبُوا فَاٴَخَذْنَاھُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُون) ۔