قیامت کے روز مشرکوں کو پتہ چلے گا
وَلَقَدْ جِئْنَاهُمْ بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۵۲هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ ۚ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ۵۳
ہم ان کے پاس ایسی کتاب لے آئے ہیں جسے علم و اطلاع کے ساتھ مفصل بیان کیا ہے اور وہ صاحبانِ ایمان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے. کیا یہ لوگ صرف انجام کار کا انتظار کررہے ہیں تو جس دن انجام سامنے آجائے گا تو جو لوگ پہلے سے اسے بھولے ہوئے تھے وہ کہنے لگیں گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے رسول صحیح ہی پیغام لائے تھے تو کیا ہمارے لئے بھی شفیع ہیں جو ہماری سفارش کریں یا ہمیں واپس کردیا جائے تو ہم جو اعمال کرتے تھے اس کے علاوہ دوسرے قسم کے اعمال کریں -درحقیقت ان لوگوں نے اپنے کو خسارہ میں ڈال دیا ہے اور ان کی ساری افترا پردازیاں غائب ہوگئی ہیں.
ہم نے پچھلی آیتوں میں پڑھا کہ قیامت کے روز مشرکوں کو پتہ چلے گا انھوں نے اپنے معبود کے انتخاب میں سخت دھوکا کھایا تھا، اب اس آیت میں حقیقی معبود اور اس کی خاص صفات سے متعلق بحث ہے تاکہ وہ لوگ جو حق کے متلاشی ہیں قبل اس کے کہ قیامت کا دن آپہنچے اسی دنیا میں اچھی طرح سے پہچان لیں، ابتدا میں فرمایا گیا ہے: تمھارا پروردگار وہ معبود ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ روز میں پیدا کیا ، مطلب یہ ہے کہ ”معبود“ سوائے ”پیدا کرنے والے“ کے اور کوئی نہیں ہوسکتا (إِنَّ رَبَّکُمْ اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ فِی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ) ۔