جنت کی نعمتیں دو زخیوں پر حرام ہیں
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ ۵۰الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ۵۱
اور جہّنم والے جنّت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ذرا ٹھنڈا پانی یا خدا نے جو رزق تمہیں دیا ہے اس میں سے ہمیں بھی پہنچاؤ تو وہ لوگ جواب دیں گے کہ ان چیزوں کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے. جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنالیا تھا اور انہیں زندگانی دنیا نے دھوکہ دے دیا تھا تو آج ہم انہیں اسی طرح بھلادیں گے جس طرح انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلادیا تھا اور ہماری آیات کا دیدہ و دانستہ انکار کررہے تھے.
جب جنتی اور دوزخی لوگ سب کے سب اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ جائیں گے تو ان کے درمیان گفتگو شروع ہوگی جس کا مقصد یہ ہوگا کہ اہلِ دوزخ کو ان کے اعمال کی وجہ سے روحانی اور معنوی سزا دی جائے ۔
پہلے دوزخی لوگ جو بہت بُری حالت میں ہوں گے جنت والوں سے پکارکر جنت ک پانی اور کھانے کی تمنّا کریں گے تاکہ جلادینے والی تشنگی اور دیگر آلام میں کچھ کمی واقع ہو ( وَنَادیٰ اٴَصْحَابُ النَّارِ اٴَصْحَابَ الْجَنَّةِ اٴَنْ اٴَفِیضُوا عَلَیْنَا مِنَ الْمَاءِ اٴَوْ مِمَّا رَزَقَکُمْ اللهُ) ۔
لیکن فوراً اہلِ بہشت ان کے اس سوال کو یہ کہہ کر ردّ کردیں گے کہ: یہ چیزیں الله نے کافروں پر حرام کردی ہیں(قَالُوا إِنَّ اللهَ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکَافِرِینَ) ۔