Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ”فحشآء“ سے کیا مراد ہے؟

										
																									
								

Ayat No : 26-28

: الاعراف

يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ۲۶يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا ۗ إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ۲۷وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ۲۸

Translation

اے اولادُ آدم ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جس سے اپنی شرمگاہوں کا پردہ کرو اور زینت کا لباس بھی دیا ہے لیکن تقوٰی کا لباس سب سے بہتر ہے یہ بات آیات الٰہیٰہ میں ہے کہ شاید وہ لوگ عبرت حاصل کرسکیں. اے اولاد آدم خبردار شیطان تمہیں بھی نہ بہکادے جس طرح تمہارے ماں باپ کو جنّت سے نکال لیا اس عالم میں کہ ان کے لباس الگ کرادئیے تاکہ شرمگاہیں ظاہر ہوجائیں -وہ اور اس کے قبیلہ والے تمہیں دیکھ رہے ہیں اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھ رہے ہو بیشک ہم نے شیاطین کو بے ایمان انسانوں کا دوست بنادیا ہے. اور یہ لوگ جب کوئی براکام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے آباؤ اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ نے یہی حکم دیا ہے -آپ فرمادیجئے کہ خدا بری بات کا حکم دے ہی نہیں سکتا ہے کیا تم خدا کے خلاف وہ کہہ رہے ہو جو جانتے بھی نہیں ہو.

Tafseer

									لفظ ”فاحشہ“(عمل قبیح) کے متعلق بہت سے مفسّرین کا قول ہے کہ اس سے زمانہ جاہلیت میں عربوں کی اس رسم کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے گرو مادر زاد برہنہ طواف کرتے تھے، اس میں مرد و عورت کا بھی کوئی فرق نہ تھا، اس بارے میں ان کی دلیل یہ تھی کہ جن کپڑوں سے خدا کا گناہ کیا ہے انھیں وقت طواف بدن سے الگ کردینا چاہیئے ۔
بے شک یہ تفسیر ان آیات سے ضرور مناسبت رکھتی ہے جو اس سے قبل گذر چکی ہیں اور ان میں لباس اور اس کے پہننے کے متعلق گفتگو کی گئی ہے ۔ لیکن متعدد روایات میں ملتا ہے کہ ”فاحشہ“ سے مراد یہاں پر ظالم پیشواوٴں کا لوگوں سے یہ کہنا ہے کہ وہ ان کی پیروی کریں کیونکہ(بقول ان کے) خدانے ان کی اطاعت کو لوگوں پر فرض کیا ہے ۔
لیکن بعض مفسرین جیسے ”المنار“ اور ”المیزان“ کے موٴلف نے اس کے ایک وسیع معنی بیان کیے ہیں جس کے دائرے میں ہر بُرا کام آجاتا ہے ۔ اگر آیت کے وسیع معنی پر نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ”فاحشہ“ کے معنی میں وسیع و عام ہونا چاہئے برہنگی کے عالم میں طواف کرنا اور پیشوایان ظلم و ستم کی پیروی اس کے واضح مصداقوں میں سے ہوگا، اور یہ روایات کے خلاف بھی نہیں ہوگا ۔ 
تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہ ٴبقرہ آیت ۱۷۰ کے ذیل میں بزرگوں کے طریقہ اور رسوم پر بغیر کسی قید و شرط کے عمل کرنے کے بارے میں مفصل بحث کی گئی ہے ملاحظہ ہو ۔

۲۹ قُلْ اٴَمَرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ وَاٴَقِیمُوا وُجُوھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصع ِینَ لَہُ الدِّینَ کَمَا بَدَاٴَکُمْ تَعُودُونَ-
۳۰ فَرِیقًا ھَدیٰ وَفَرِیقًا حَقَّ عَلَیْھِمْ الضَّلَالَةُ إِنَّھُمْ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِینَ اٴَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِ اللهِ وَیَحْسَبُونَ اٴَنَّھُمْ مُھْتَدُونَ-
ترجمہ
۲۹۔ (اے میرے رسول!)کہہ دو کہ میرے پرورگار نے عدالت کا حکم دیا ہے، اور ہر مسجد میں (اور وقتِ عبادت)اپنی توجہ اس کی طرف رکھو، اسے پکارو اور اپنے دین کو اس کے لئے خالص کرو (اور یہ جان لوکہ )جس طرح اس نے تم کو آغاز میں پیدا کیا ہے (اسی طرح) تم حشر کے روز اس کی طرف پلٹو گے ۔
۳۰۔ (خدا نے )کچھ لو گو ں کی ہدایت کی اور کچھ لوگ (جن میں لیاقت نہیں ہے) ان کی گمراہی مسلم الثبوت ہے، (یہ وہ لوگ ہیں کہ) انھوں نے بجائے خدا کے شیطانوں کو اپنا ولی و سرپرست بنایا ہے، اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔

 

۱۔ سورہ بقہ آیت ۲۶۸۔ ۲۶۹ ملاحظہ و ۔