۳۔ آیا آدم نے گناہ کیا تھا؟
وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ۱۹فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ ۲۰وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ ۲۱فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ ۲۲
اور اے آدم علیھ السّلامتم اور تمہاری زوجہ دونوں جنّت میں داخل ہوجاؤ اور جہاں جو چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا کہ ظلم کرنے والوں میں شمار ہوجاؤ گے. پھر شیطان نے ان دونوں میں وسوسہ پیدا کرایا کہ جن شرم کے مقامات کو چھپا رکھا ہے وہ نمایاں ہوجائیں اور کہنے لگا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ تم فرشتے ہوجاؤ گے یا تم ہمیشہ رہنے والو میں سے ہوجاؤ گے. اور دونوں سے قسم کھائی کہ میں تمہیں نصیحت کرنے والوں میں ہوں. پھر انہیں دھوکہ کے ذریعہ درخت کی طرف جھکا دیا اور جیسے ہی ان دونوں نے چکّھا شرمگاہیں کھلنے لگیں اور انہوں نے درختوں کے پتے جوڑ کر شرمگاہوں کو چھپانا شروع کردیا تو ان کے رب نے آواز دی کہ کیا ہم نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کیا ہم نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے.
یہود و نصاریٰ کی کتب مقدسہ سے ہم نے جو مذکورہ بالا عبارت پیش کی اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اس بات کے معتقد ہیں کہ آدم گناہ و معصیت کے مرتکب ہوئے تھے بلکہ ان کا گناہ کوئی معمولی گناہ نہیں تھا ۔ ان سے ایک سنگین گناہ سرزد ہوا تھا ۔ حتیٰ کہ انھوں نے مقام ربوبیت سے جنگ کی ٹھان لی لیکن مدارک ِ اسلامی چاہے وہ عقل کی رو سے ہوں یا آیات و روایات ہوں، ہمیں یہ بتلاتے ہی کہ کوئی پیغمبر گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا اور نہ ہی پیشوائی خلق کا منصب کسی گناہگار کو سونپا جاتا ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ حضرت آدم (علیه السلام) انبیائے الٰہی میں سے مراد ”عصیان نسبی“ اور ”ترک اولیٰ“ ہے نہ کہ مطلق گناہ۔
جاننا چاہیے کہ گناہ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک ”گناہ مطلق“ دوسرے ”گناہ نسبی“ گناہ مطلق کے مفہوم میں نہی تحریمی کی مخالفت اور خدا کے فرمان قطعی اور ہر طرح کے واجب کو ترک کرنا یا کوئی حرام کام انجام دینا شامل ہے ۔
لیکن گناہ نسبی یہ ہے کہ کسی بلند پا یہ شخص سے کوئی ایسا غیر حرام عمل انجام پائے جو اس کی شان اور مقام کے مناسب نہ ہو کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی عمل مباح و جائز، بلکہ عمل مستحب ایک بڑے درجہ کے انسان کے مناسب نہ ہو، ایسی صورت میں اس عمل کو ”گناہ نسبی“ کہا جائے گا، مثلاً اگر کوئی با ایمان اور ثروتمند شخص کسی فقیر کو فقر و افلاس کے پنچے سے نجات دینے کے لئے اس کی بہت معمولی سی مدد کرے ۔ بلا شبہ یہ مدد چاہے کتنی بھی کم ہو حرام تو نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے، لیکن جو بھی سنے گا، گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہے ۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اس صاحب ایمان ثروت مند سے زیادہ مدد کی توقع کی جاتی تھی ۔
اسی نسبت سے جو اعمال مقربان بارگاہ الٰہی سے سر زد ہوتے ہیں، وہ ان کے مقام کے لحاظ سے پر کھے جاتے ہیں اگر وہ ان کے معیار پر پورے نہ اتریں تو اس کے لئے بھی کبھی عصیان یا ذنب (گناہ) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔(۱) مثال کے طور پر ایک نماز (جس میں حضور قلب نہ ہو) ایک عام شخص کے لحاض سے ایک ممتازنماز محسوب کی جائے گی لیکن یہی نماز اولیائے حق کے لحاظ سے ”گناہ“ شمار ہوگی، کیونکہ ان کے مقام کے لحاظ سے حالت نماز میں ایک لحظہ کی غفلت مناسب و شائستہ نہیں ہے بلکہ انھیں اپنے علم و تقویٰ کی بناء پر ہنگام عبادت میں اس کے جمال و جلال میں غرق ہوجانا چاہیے ۔
عبادت کے علاوہ ان کے دیگر اعمال کا حال بھی یہی ہے ۔ انھیں بھی ان کے مقام کے لحاظ سے جانچا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے اگر ایک ”ترکِ اولیٰ“ ان سے سرزد ہوجائے تو وہ پروردگارِ عالم کے عتاب و سرزنش کا باعث بنے گا (ترکِ اولیٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی بہتر کام کو ترک کرکے کار خوب یا عمل مباح بجالائے) ۔
روایاتِ اسلامی میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت یعقوب(علیه السلام) کے مصائب اورفراق فرزندکے سلسلے میں انھیںجو زحمتیں اٹھانا پڑیں اس وجہ سے تھیں کہ ایک محتاج روزہ دار مغرب کے وقت ان کے دروازہ پر آیا اور انھوں نے اس کی مدد سے غفلت کی جس کی وجہ سے وہ فقیر بھوکا اور دلشکستہ واپس چلاگیا
یہ عمل اگر ایک عام فرد سے سرزد ہوا ہوتا تو شاید اس کی اس قدر اہمیت نہ ہوتی لیکن خدا کے ایک عظیم پیغمبر اور رہبر امت سے جب یہ عمل ظاہر ہوا تو خدانے اسے اتنی اہمیت دی کہ ان کیلئے نہایت شدید پاداش مقرر کی ۔(۲)۲۳ قَالَارَبَّنَا ظَلَمْنَا اٴَنفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ-
۲۴ قَالَ اھْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلیٰ حِینٍ-
۲۵ قَالَ فِیھَا تَحْیَوْنَ وَفِیھَا تَمُوتُونَ وَمِنْھَا تُخْرَجُونَ-
ترجمہ
۲۳۔ان دونوں نے کہا: پروردگارا! ہم نے اپنی جانوں پر ستم کیا، اکر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے جائیں گے ۔
۲۴۔(خدانے)فرمایا: (اپنے مقام سے) نیچے اتر جاؤ اس حال میں کہ ایک دوسرے کے دشمن ہوگے (شیطان تم دونوں کا دشمن اور تم دونوں) اور تمھارے لئے زمین میں ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک مدت تک کے لئے وسائل زندگی مہیا ہیں ۔
۲۵۔(خدانے) فرمایا: اسی (زمین )میں جیو گے، اسی میں مروگے، اور اسی سے (بروز محشر) باہر نکلو گے ۔
تفسیر
۱۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ”حسنات الابرار سیئات المقربین “ یعنی کبھی نیک افراد کے لحاظ سے جو عمل حسنہ شمار ہوتا ہے، وہی عمل مقربان بارگاہِ الٰہی کے لحاظ سے گناہ شمار ہوتا ہے ۔ (مترجم)
۲۔ تفسیر ”نورالثقلین“ جلد دوم ص ۴۱۱ نقل از کتاب”علل الشرایع“۔