Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ شیطانی وسوسے اور انسانی آزادی

										
																									
								

Ayat No : 19-22

: الاعراف

وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ۱۹فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ ۲۰وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ ۲۱فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ ۲۲

Translation

اور اے آدم علیھ السّلامتم اور تمہاری زوجہ دونوں جنّت میں داخل ہوجاؤ اور جہاں جو چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا کہ ظلم کرنے والوں میں شمار ہوجاؤ گے. پھر شیطان نے ان دونوں میں وسوسہ پیدا کرایا کہ جن شرم کے مقامات کو چھپا رکھا ہے وہ نمایاں ہوجائیں اور کہنے لگا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ تم فرشتے ہوجاؤ گے یا تم ہمیشہ رہنے والو میں سے ہوجاؤ گے. اور دونوں سے قسم کھائی کہ میں تمہیں نصیحت کرنے والوں میں ہوں. پھر انہیں دھوکہ کے ذریعہ درخت کی طرف جھکا دیا اور جیسے ہی ان دونوں نے چکّھا شرمگاہیں کھلنے لگیں اور انہوں نے درختوں کے پتے جوڑ کر شرمگاہوں کو چھپانا شروع کردیا تو ان کے رب نے آواز دی کہ کیا ہم نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کیا ہم نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے.

Tafseer

									”وسوس الہ“ (کہ جس میں کلمہ لام بھی استعمال ہوا ہے جو عام طور سے فائدے اور نفع کے لئے آتا ہے ) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے وسوسہ ڈالنے میں آدم کی خیر خواہی اور دوستی کا روپ بھرا تھا، جبکہ ”وسوس الیہ“ سے یہ معنی برآمد نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنی صرف کسی کے دل میں مخفی طور سے اثر ڈالنے کے ہیں ۔ لیکن ہر حال میں، یہ تصوّر نہ ہو کہ شیطانی وسوسے چاہے وہ جتنے بھی قوی اورمضبوط کیوں نہ ہوں انسان سے اس کی خود مختاری اور ارادہ سلب کرلیتے ہیں، بلکہ اس کے بعد بھی انسان اپنی عقل اور ایمان کی طاقت سے اس کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھنا چاہیے کہ شیطانی وسوسے کو بُرے کاموں پر مجبور نہیں کر دیتے بلکہ اختیار و ارادہ کی قوت اپنے حال پر باقی رہتی ہے، تا ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لئے پامردی و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس میں کبھی بڑے رنج و الم کا بھی سامنا ہوتا ہے لیکن ان تمام حالات میں اس طرح کے وسوسے کسی کی ذمہ داری اور مسئولیت ختم نہیں کردیتے، جس طرح آدم سے نہیں کی جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ان تمام تحریکوں اور ترغیبوں کے باوجود جو آدم کے بہکانے کے لئے شیطان نے انجام دیں، خدا تعالیٰ نے آدم کو ان کے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اسی بناء پر جیسا کہ آگے آئے گا انھیں اس کی پاداش بھی دی ۔