نظریہ تکامل انواع و پیدائش آدم
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ ۱۱قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ ۱۲قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ ۱۳قَالَ أَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۱۴قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ ۱۵قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ۱۶ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ ۱۷قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَدْحُورًا ۖ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ ۱۸
اور ہم نے تم سب کو پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں مقرر کیں -اس کے بعد ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کرلیا صرف ابلیس نے انکار کردیا اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا. ارشاد ہوا کہ تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ تونے میرے حکم کے بعد بھی سجدہ نہیں کیا -اس نے کہا کہ میں ان سے بہتر ہوں -تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے بنایا ہے. فرمایا تو یہاں سے اتر جا تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں غرور سے کام لے -نکل جا کہ تو ذلیل لوگوں میں ہے. اس نے کہا کہ پھر مجھے قیامت تک کی مہلت دے دے. ارشاد ہوا کہ تو مہلت والوں میں سے ہے. اس نے کہا کہ پس جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھ جاؤں گا. اس کے بعد سامنے ,پیچھے اور داہنے بائیں سے آؤں گا اور تو اکثریت کو شکر گزار نہ پائے گا. فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو ذلیل اور مردود ہے اب جو بھی تیرا اتباع کرے گا میں تم سب سے جہّنم کو بھردوں گا.
یہاں پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا آدم کی خلقت اس نظریہ سے مطابقت رکھتی ہے جسے علومطبعی (سائنس) میں بیان کیا جاتا ہے، یا نہیں؟ نیز یہ کہ اصولی طور پر نظر یہ تکامل سائنسدانوں کی نظر میں مرحلہ یقین پر پہنچا ہے یا نہیں؟ یہ بحثیں ضروری ہیں جنہیں انشاء اللہ ہم متعلقہ آیات کے ذیل (جیسے آیات ۲۶ تا ۳۳ سورہٴ حجر) میں بیان کریں گے ۔
۱۹ وَیَاآدَمُ اسْکُنْ اٴَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ فَکُلَامِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَاتَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنَ الظَّالِمِینَ-
۲۰ فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطَانُ لِیُبْدِیَ لَھُمَا مَا وُورِیَ عَنْھُمَا مِنْ سَوْآتِھِمَا وَقَالَ مَا نَھَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ اٴَنْ تَکُونَا مَلَکَیْنِ اٴَوْ تَکُونَا مِنَ الْخَالِدِینَ-
۲۱ وَقَاسَمَھُمَا إِنِّی لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِینَ-
۲۲ فَدَلاَّھُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَھُمَا سَوْآتُھُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاھُمَا رَبُّھُمَا اٴَلَمْ اٴَنْھَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَةِ وَاٴَقُلْ لَکُمَا إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُبِینٌ-
ترجمہ
۱۹۔ اور اے آدم ! تم ، اور تمہاری زوجہ بہشت میں مقیم رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ، لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ستم کرنے والوں میں سے ہوجاؤ گے ۔
۲۰۔ اس کے بعد شیطان نے انھیں پھسلایا تاکہ وہ چیز جو اُن کے اندام میں پوشیدہ ہے ظاہر ہوجائے اور اُس نے کہا کہ تمھارے پروردگار نے تم کو اس درخت سے نہیں روکا لیکن اس لئے کہ (اگر اس سے کھالو گے تو) فرشتہ بن جاؤ گے یا ہمیشہ کے لئے (بہشت میں)باقی رہو گے ۔
۲۱۔ اور اس نے ان کے سامنے یہ قسم کھائی کہ تمہارا خواہ ہوں ۔
۲۲۔اور اس طرح سے ان کو دھوکا دے کر (ان کے مقام و درجہ سے) نیچے گرادیا، اور جس وقت انھوں نے درخت سے چکھا، ان کا اندام (شرم گاہ) ان کے لئے نمایاں ہو گیا اور انھوں نے درخت کے پتوں کو ایک دوسرے پر رکھنا شروع کیا تاکہ اس کو چھپائیں ان کے پروردگار نے ان کو نِدا کی کہ آیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا ، اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟!
تفسیر