Tafseer e Namoona

Topic

											

									  مسلک جبر کا بانی بھی ابلیس تھا

										
																									
								

Ayat No : 11-18

: الاعراف

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ ۱۱قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ ۱۲قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ ۱۳قَالَ أَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۱۴قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ ۱۵قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ۱۶ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ ۱۷قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَدْحُورًا ۖ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ ۱۸

Translation

اور ہم نے تم سب کو پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں مقرر کیں -اس کے بعد ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کرلیا صرف ابلیس نے انکار کردیا اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا. ارشاد ہوا کہ تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ تونے میرے حکم کے بعد بھی سجدہ نہیں کیا -اس نے کہا کہ میں ان سے بہتر ہوں -تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے بنایا ہے. فرمایا تو یہاں سے اتر جا تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں غرور سے کام لے -نکل جا کہ تو ذلیل لوگوں میں ہے. اس نے کہا کہ پھر مجھے قیامت تک کی مہلت دے دے. ارشاد ہوا کہ تو مہلت والوں میں سے ہے. اس نے کہا کہ پس جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھ جاؤں گا. اس کے بعد سامنے ,پیچھے اور داہنے بائیں سے آؤں گا اور تو اکثریت کو شکر گزار نہ پائے گا. فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو ذلیل اور مردود ہے اب جو بھی تیرا اتباع کرے گا میں تم سب سے جہّنم کو بھردوں گا.

Tafseer

									مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس نے اپنی برائت بیان کرنے کے لئے جبر کی نسبت خدا کی طرف دی اور کہا: ”چونکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے، اس لئے میں بھی نسل آدم کی گمراہی کے لئے پوری کوشش کروں گا ۔“
اگر چہ کچھ مفسرین کا اس بات پر اصرار ہے کہ جملہ ” فبمآ اغویتنی“ کی اس طرح سے تفسیر کریں کہ اس سے ”جبر“ نہ نکلے، لیکن بہ ظاہر اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس جملہ کا ظاہر ”جبر“کے معنی دیتا ہے اور شیطان سے بھی یہ کوئی بعید بات نہیں ہے ۔
اس امر کی گواہ حضرت امیرالمومنین(علیه السلام) کی وہ حدیث ہے جو آپ نے اس وقت ارشاد فرمائی جبکہ آپ جنگ صفین سے پلٹ رہے تھے اور ایک بوڑھے شخص نے آپ سے ”قضاء و قدر“ کے متعلق سوال کیا حضرت نے اس کے جواب میں فرمایا:
”ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ سب قضاء و قدر الٰہی تھا ۔“
اس سے وہ بوڑھا شخص یہ سمجھا کہ اس سے مراد وہی ”مسئلہ جبر“ہے، حضرت نے اس وقت اس کو بڑی شدت کے ساتھ اس خیال باطل سے روکا اور ایک طویل گفتگو کے ضمن میں اس سے فرمایا:
” تلک مقالة اخوان عبدة الاوثان و خصماء الرحمان و حزب الشیطان ۔“
”یہ بت پرستوں اور دشمنان خدا اور شیطانی گروہ کا مقولہ ہے ۔“(۱)
اس کے بعد آپ نے ”قضاء و قدر“کے معنی قضاء و قدر تشریعی کے کیے یعنی اس سے مراد خدا کے فرامین اور تکالیف شرعیہ ہیں، بہرحال اس سے معلوم ہوگیا کہ سب سے پہلے جس نے ”مسلک جبریہ“ کی حسامی بھری وہ۔ شیطان ہی تھا ۔
اس کے بعد شیطان نے اپنی بات کی مزید تائید و تاکید کے لئے یوں کہا: میں نہ صرف یہ کہ ان کے راستہ پر اپنا مورچہ قائم کروں گا بلکہ ان کے سامنے سے، پیچھے سے، واہنی جانب سے، بائیں جانب سے گویا چاروں طرف سے ان کے پاس آؤں گا جس کے نتیجے میں تو ان کی اکثریت کو شکرگزار نہ پائے گا

( ثُمَّ لَآتِیَنَّھُمْ مِنْ بَیْنِ اٴَیْدِیھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ وَعَنْ اٴَیْمَانِھِمْ وَعَنْ شَمَائِلِھِمْ وَلَاتَجِدُ اٴَکْثَرَھُمْ شَاکِرِینَ ) ۔
مذکورہ بالا تعبیر سے ممکن ہے مراد یہ ہو کہ شیطان ہر طرف سے انسان کا محاصرہ کرے گا اور اسے گمراہ کرنے کے لئے ہر وسیلہ اختیار کرے گا اور یہ تعبیر ہماری روز مرہ کی گفتگو میں بھی ملتی ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ ”“فلان شخص چاروں طرف سے قرض میں یا مرض میں گھرگیا ہے ۔
اوپر اور نیچے کا ذکر نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی زیادہ تر اور عموماً فعالیت ان چار طرف ہوتی ہے ۔
لیکن ایک روایت جو امام محمد باقر علیہ السلام سے وارد ہوئی ہے، اس میں ان ”چار جہت“ کی ایک گہری تفسیر ملتی ہے اور پیچھے سے آنے کے معنی یہ ہیں کہ : شیطان انسان کو مال جمع کرنے اور اولاد کی خاطر بخل کرنے کے لئے ور غلاتا ہے، اور ”داہنی طرف“ سے آنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ انسان کے دل میں شک و شبہ ڈال کر اس کے امور معنوی کو ضائع کردیتا ہے اور ”بائیں طرف“ سے آنے سے مراد یہ ہے کہ شیطان انسان کی نگاہ میں لذات مادّی و شہوات دنیوی کو حسین بنا کر پیش کرتا ہے ۔(2)
زیر بحث کے آخر میں ایک مرتبہ اور شیطان کو یہ فرمان دیا جاتا ہے کہ وہ مقام قرب الٰہی اور اپنی سابقہ منزلت اور درجے سے نکل جائے ۔ بس اتنا فرق ہے کہ یہاں پر اس کے باہر نکل جانے کا فرمان شدید تر اور زیادہ تحقیر آمیز لہجے میں صادر ہوا ہے ۔ یہ شاید شیطان کی جرات و جسارت اور اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے جس کا اظہار اس نے افراد انسانی کو گمراہ کرنے کے سلسلے میں کیا تھا یعنی شروع میں اس کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس نے خدا کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا، اسی لئے کے خروج کا حکم صادر ہوا ، اس کے بعد اس نے خدا کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا، اسی لئے اس کے خروج کا حکم صادر ہوا، اس کے بعد اس نے ایک اور بڑا گناہ یہ کیا کہ خدا کے سامنے بنی آدم کو بہکانے کا عہد کیا اور ایسی بات کہی گویا وہ خدا کو دھمکی دے رہا تھا، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کونسا گناہ ہوسکتاہے، لہٰذا خدا نے اس سے فرمایا: اس مقام سے بدترین ننگ و عار کے ساتھ نکل جا او رذلت و خواری کے ساتھ نیچے اتر جا ( قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْئُومًا مَدْحُورًا ) ۔(3)
اور فرمایا میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ جو بھی تیری پیروی کرے گا میں جہنم کو تجھ سے اور اس سے بھر دوں گا ( لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَاٴَمْلَاٴَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اٴَجْمَعِینَ) ۔

۱۔ اصول کافی جلد ۱ باب جبرو قدر ص ۱۲۰-
2۔ تفسیر ”مجمع البیان“ جلد ۴ ص ۴۰۳-
3۔ ”مذؤم ”مادّہ“ ذئم“ (بروزن طعم) سے ہے جس کے معنی ہیں عیب شدید ”مدحور ”مادّہ“ وحر“ (بروزن دھراً)سے ہے جس کے معنی ہیں ذلت و خواری کے ساتھ باہر نکال دین-