ایک استثناء
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ ۱۱قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ ۱۲قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ ۱۳قَالَ أَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۱۴قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ ۱۵قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ۱۶ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ ۱۷قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَدْحُورًا ۖ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ ۱۸
اور ہم نے تم سب کو پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں مقرر کیں -اس کے بعد ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کرلیا صرف ابلیس نے انکار کردیا اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا. ارشاد ہوا کہ تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ تونے میرے حکم کے بعد بھی سجدہ نہیں کیا -اس نے کہا کہ میں ان سے بہتر ہوں -تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے بنایا ہے. فرمایا تو یہاں سے اتر جا تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں غرور سے کام لے -نکل جا کہ تو ذلیل لوگوں میں ہے. اس نے کہا کہ پھر مجھے قیامت تک کی مہلت دے دے. ارشاد ہوا کہ تو مہلت والوں میں سے ہے. اس نے کہا کہ پس جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھ جاؤں گا. اس کے بعد سامنے ,پیچھے اور داہنے بائیں سے آؤں گا اور تو اکثریت کو شکر گزار نہ پائے گا. فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو ذلیل اور مردود ہے اب جو بھی تیرا اتباع کرے گا میں تم سب سے جہّنم کو بھردوں گا.
اردو
صرف ایک موضوع ایسا ہے جس کا استثناء کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ قانون بنانے والا مثلاً طبیعت اپنے حکم کا فلسفہ و دلیل بیان کردے، بس اس صورت میں ممکن ہے کہ جہاں بھی وہ دلیل اور فلسفہ پایا جائے وہاں اس حکم کو جاری کیا جائے ۔ اسے اصطلاح میں ”قیاس منصوص العلة“ کہتے ہیں ۔ مثلاً اگر طبیعت بیمار سے یہ کہے کہ فلاں میوہ سے پرہیز کرنا کیونکہ وہ ترش ہے ۔ اس سے بیمار یہ سمجھے گا کہ اس کے لئے ترشی مضر ہے اس سے پرہیز کرنا چاہیے چاہے وہ کسی میوہ میں پائی جائے ۔ بالکل اسی طرح قرآن یا سنت میں اس بات کی تصریح موجود ہو کہ شراب سے پرہیز کرو کیونکہ وہ نشہ آور ہے، اس سے ہم یہ سمجھیں گے کہ ہر نشہ آور مایع (چاہے وہ شراب نہ بھی ہو) حرام ہے ۔ اس طرح کا قیاس ممنوع نیں ہے کیونکہ اس کی دلیل قطعی کا ذکر کردیا گیا ہے ۔ قیاس صرف اس جگہ ممنوع ہے جہاں ہم حکم کے فلسفہ و دلیل کو تمام جہات سے ازروئے یقین نہ جان سکیں ۔
”قیاس“ کا موضوع ایک طویل الذیل موضوع ہے، سطور بالا میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مختصراً اور خلاصے کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ مزید توضیح کے لئے اصول فقہ اور احادیث کی کتابوں میں باب قیاس کی طرف رجوع کیا جائے ۔ ہم یہاں پر ایک حدیث نقل کرکے اس بحث کو ختم کرتے ہیں:
کتاب علل الشرایع میں منقول ہے:
ایک دفعہ ابو حنیفہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس آئے ۔ امام علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم احکام خدا میں اپنے قیاس سے کام لیتے ہو!
ابوحنیفہ نے جواب دیا: جی ہاں ایسا ہی ہے، میں قیاس کرتاہوں ۔
امام نے فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ ابلیس تھا جب اس نے کہا تھا، خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ ،اس نے آگ اور مٹی کا باہم قیاس کیا، حالانکہ وہ آدم کی نورانیت و روحانیت کا آگ پر جو فوقیت حاصل ہے اسے پہنچان لیتا ۔(۱)
۱۔تفسیر ”نورالثقلین“ جلد ۲ ص ۹۔