سوال کس لئے؟
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ ۶فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ ۖ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ ۷وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۸وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ ۹
پس اب ہم ان لوگوں سے بھی سوال کریں گے اور ان کے رسولوں سے بھی سوال کریں گے. پھر ان سے ساری داستان علم و اطلاع کے ساتھ بیان کریں گے اور ہم خود بھی غائب تو تھے نہیں. آج کے دن اعمال کا وزن ایک برحق شے ہے پھر جس کے نیک اعمال کا پّلہ بھاری ہوگا وہی لوگ نجات پانے والے ہیں. اور جن کا پّلہ ہلکا ہوگیا یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں رکھا کہ وہ ہماری آیتوں پر ظلم کررہے تھے.
اردو
پہلی بحث جو ہمیں درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ خدا ہر چیز کو جانتا ہے اور اصولی طور سے ہر جگہ حاضر وناظر بھی ہے اس صورت میں اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ وہ تمام انبیاء اور امّتوں سے بغیر کسی استثناء کے بازپرس کرے؟
اس سوال کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر سوال کرنا اطلاع حاصل کرنے کے لئے اور واقعہ معلوم کرنے کے لئے ہو تو جسے معلوم ہے اس کے لئے ایسا سوال کرنا بے فائدہ ہوگا لیکن اگر سوال کا مقصد یہ ہو کہ مخاطب ہو متوجہ کیاجائے یا اس سے اتمام حجت کی جائے یا اس کے علاوہ کوئی اور غرض ہو تو اس موقع پر سوال بے جا نہیں ہے، اس کی ٹھیک مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص کثیر النسیان ہو اور ہم نے بہت زیادہ اس کی خدمت کی ہو پھر اس نے بجائے خدمت کے طرح طرح کی خیانتوں سے بدلہ دیا ہو، یہ تمام باتیں ہم پر روشن ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اس شخص سے بازپرس کرتے ہوئے اس سے پوچھتے ہیں کہ آیا ہم نے تمھاری طرح طرح کی خدمتیں نہیں کیں؟ کیا تم نے ان خدمتوں کا حق ادا کیا؟
اس طرح کے سوالات تحصیل علم کے لئے نہیں ہوا کرتے بلکہ دوسرے کی تفہیم کے لئے ہوتے ہیں یا یہ کہ کسی خدمت گزار شخص کی قدر دانی اور تشویق کے لئے اس سے پوچھتے ہیں: اس سفر میں جو ڈیوٹی تمھارے سپرد کی گئی تھی اس کی بابت تم نے کیا کیا؟ درحالیکہ ہمیں اس کی تمام جزئیات معلوم ہوتی ہیں ۔