وہ قومیں جو نابود ہوگئیں
وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ ۴فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلَّا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ۵
اور کتنے قرئیے ہیں جنہیں ہم نے برباد کردیا اور ان کے پاس ہمارا عذاب اس وقت آیا جب وہ رات میں سورہے تھے یا دن میں قیلولہ کررہے تھے. پھر ہمارا عذاب آنے کے بعد ان کی پکار صرف یہ تھی کہ یقینا ہم لوگ ظالم تھے.
اردو
ان دونوں آیتوں میں ان عبرت ناک سزاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو سابقہ آیات میں مذکورہ فرمانوں کی مخالفت کی وجہ سے دی گئیں ۔
نیز یہ فی الواقع متعدد قوموں کی سرگذشت کی ایک اجمالی فہرست ہے جسے قوم نوح، قوم فرعون، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط جن کا تذکرہ بعد میں آنے والا ہے ۔
اس مقام پر قرآن ان لوگوں کو جو انبیائے الٰہی کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور بجائے اپنی اور دوسرے افراد کی اصلاح کے، فساد کے بیج بوتے ہیں، انھیں شدّت سے تنبیہ کرتا ہے کہ وہ ذرا پچھلی قوموں کی زندگی پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں: ہم نے کس قدر شہر اور آبادیاں تباہ و برباد کردیں اور ان میں رہنے والے لوگوں کو نابود کردیا (وَکَمْ مِنْ قَرْیَةٍ اٴَھْلَکْنَاھَا) ۔
اس کے بعد ان کی ہلاکت کی کیفیت کو اس طرح بیان کرتا ہے : ہمارا درناک عذاب، رات (کی تاریکی) میں جبکہ وہ خواب راحت میں ڈوبے ہوئے تھے یا دن کے درمیانی حصہ میں اس وقت جبکہ وہ دن کے کاموں کے بعد استراحت کررہے تھے انھیں آپہنچا ( فَجَائَھَا بَاٴْسُنَا بَیَاتًا اٴَوْ ھُمْ قَائِلُون) ۔
اس کے بعد کی آیت میں بات کو آگے یوں بڑھاتا ہے: وہ لوگ جب گردابِ بلا میں گرفتار ہوتے تھے اور پاداش عمل کا طوفان ان کی زندگی کے آشیانہ کو اجاڑرہا ہوتا تھا تو وہ نخوت و غرور کی بلندی سے نیچے آتے تھے اور یوں کہتے تھے: ہم ستمگر تھے اور اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ ظلم و ستم نے ان کا دامن تھام رکھا تھا ( فَمَا کَانَ دَعْوَاھُمْ إِذْ جَائَھُمْ بَاٴْسُنَا إِلاَّ اٴَنْ قَالُوا إِنَّا کُنَّا ظَالِمِینَ) ۔