Tafseer e Namoona

Topic

											

									  (۱) کیا قرآن تورات اور انجیل کے مندرجات کی تصدیق کرتا ہے 

										
																									
								

Ayat No : 41-43

: البقرة

وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ ۖ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ ۴۱وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ۴۲وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ ۴۳

Translation

ہم نے جو قرآن تمہاری توریت کی تصدیق کے لئے بھیجا ہے اس پر ایمان لے آؤ اور سب سے پہلے کافر نہ بن جاؤ ہماری آیتوں کو معمولی قیمت پر نہ بیچو اور ہم سے ڈرتے رہو. حقکو باطل سے مخلوط نہ کرو اور جان بوجھ کر حق کی پردہ پوشی نہ کرو. نماز قائم کرو.زکوٰ ِ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو.

Tafseer

									قرآن مجید کی متعدد آیات میں یہ بات نظر سے گزرتی ہے کہ قرآن گذشتہ کتب کے مندرجات کی تصدیق کرتا ہے محل بحث آیات میں ہے ”مصدقا لما معکم “اور سورہ کی آیات ۸۹ اور ۱۰۱ میں ہے :
مصدق لما معھم 
نیز سورہ مائدہ کی آیت ۴۸ میں ہے :
و انزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب 
ہم نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یہ کتاب اپنے سے پہلے والی آسمانی کتب کی تصدیق کرتی ہے ۔
ان آیات کو علماء یہود و نصاریٰ کی ایک جماعت تورات اور انجیل کے عدم تحریف کی سند قرار دیتی ہے ۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے زمانے کی تورات اور انجیل میں اور موجودہ تورات اور انجیل میں مسلماََ کوئی فرق نہیں اگر تورات اور انجیل میں تحریف ہوئی ہوتی تو یہ زمانہ پیغمبر سے پہلے کی بات ہوتی لیکن قرآن نے چونکہ اس تورات اور انجیل کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہے جو آنحضرت کے زمانے میں موجود تھی لہذا ہمیں چاہیئے کہ ان کتب کو غیر محرف آسمانی کتب کی حیثیت سے رسمی طور پر قبول کر لیں ۔