Tafseer e Namoona

Topic

											

									  توحید اور شرک سے مقابلے

										
																									
								

Ayat No : 161-163

: الانعام

قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۱۶۱قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۱۶۲لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ۱۶۳

Translation

آپ کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت دے دی ہے جو ایک مضبوط دین اور باطل سے اعراض کرنے والے ابراہیم علیھ السّلامکا مذہب ہے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہیں تھے. کہہ دیجئے کہ میری نماز ,میری عبادتیں ,میری زندگی ,میری موت سب اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے. اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں.

Tafseer

									اس سورہ میں توحید اور شرک سے مقابلے کرنے کے بارے میں جو پے در پے تاکیدیں اور طرح طرح کے استدلال بیان کیے گئے ہیں وہ بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔
اس آیت میں ایک اور طریقے سے مشرکوں کے استدلال پر ضرب لگائی گئی ہے، فرماتا ہے: ان سے کہو اور ان سے دریافت کرو کہ آیا یہ مناسب ہے کہ خدائے یگانہ کے علاوہ کس اور کو اپنا پروردگار مانوں جبکہ وہ تمام چیزوں کا مالک اور پروردگار ہے اور اس کا حکم و فرمان اس جہاں کے ذرہ ذرہ پرکار فرما ہے ( قُلْ اٴَغَیْرَ اللهِ اٴَبْغِی رَبًّا وَھُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ) ۔
اس کے بعد ان مشرکوں کو جواب دیتا ہے جن میں سے کچھ لوگ آنحضرت کے پاس آئے تھے اور انھوں نے یہ کہا:
”اتبعنا و علینا و زرک ان کان خطا“
”اے محمد! آپ ہماری پیروی کریں اگر یہ غلط بھی ہو تب بھی آپ کا کناہ ہم اپنی گردن پر لیتے ہیں“۔ 
اللہ فرماتا ہے کہ اے نبی ان سے کہہ دو:۔
کوئی شخص سوائے اپنے کسی کے لئے کوئی عمل بجا نہیں لاتا اور نہ کوئی گنہگار دوسرے کے گناہ کا بار اپنے دوش پر اٹھا تا ہے(وَلَاتَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْھَا وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اٴُخْریٰ) ۔
اور آخرکار تم سب خدا طرف لوٹو گے ، وہ تمھیں اس چیز کے بارے میں مطلع کرے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے ( ثُمَّ إِلیٰ رَبِّکُمْ مَرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ فِیہِ تَخْتَلِفُونَ) ۔