نفاق پھیلانے والوں سے علیحدگی کا حکم
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ۱۵۹مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ۱۶۰
جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے -ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا. جو شخص بھی نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے صرف اتنی ہی سزا ملے گی اور کوئی ظلم نہ کیا جائے گا.
نفاق پھیلانے والوں سے علیحدگی کا حکم
جودس فرمان پچھلی آیتوں میں گذرے ہیں جن کے آخر میں یہ حکم تھا کہ خدا کی صراطِ مستقیم کی پیروی کرو اور ہر طرح کے نفاق اور اختلاف کا مقابلہ کرو، یہ آیت در اصل اسی مفہوم کی تفسیر وتوضیح کے ضمن میں ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ وہ لوگ جنھوں نے اپنے آئین ومذہب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے (اے رسول!) تمھارا ان سے کسی معاملے میں کوئی ربط نہیں، نہ ان کا تم سے کسی چیز میں ربط ہے کیونکہ تمھارا آئین توحید اور تمھارا دین صراطِ مستقیم ہے اور راہِ راست ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے (إِنَّ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَھُمْ وَکَانُوا شِیَعًا لَسْتَ مِنْھُمْ فِی شَیْءٍ)(۱)
اس کے بعد اس طرح کے تفرقہ انداز لوگوں کی تحدید ومذمّت کے لئے فرماتا ہے : ان کا کام خدا کے سپرد ہے، وہ انھیں کیفر کردار سے آگاہ کرے گا (إِنَّمَا اٴَمْرُھُمْ إِلَی اللهِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ)
۱۔ لغت میں لفظ ”شیع“کے معنی فرقوں،گروہوں، پیروں کے ہیں، بنابریں اس کا مفرد (شیعہ) کے معنی اس گروہ کے ہیں جو کسی خاص مسلک یا شخص کی پیروی کرے، یہ لفظ ”شیعہ“ کے لغوی معنی ہیں، لیکن اصطلاحی معنی میں اس کے خاص معنی او ان لوگوں کو شیعہ کہا جاتا ہے جو پیغمبر کے بعد مسلک امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے پیرو ہیں، لہٰذا اس کے لغوی اور اصطلاحی معنی میں اشتباہ نہیں ہونا چاہیے (موٴلف) مطلب یہ ہے کہ یہاں پر لفظ ”شیع“ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے نہ کہ اصطلاحی معنی، لہٰذا کوئی صاحب عقل اس آیت کو مذہب شیعہ کے خلاف استعمال نہیں کرسکتا(مترجم)