گرسنگی کی وجہ سے اولاد کا قتل
قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۱۵۱وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۱۵۲وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ۱۵۳
کہہ دیجئے کہ آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا حرام کیا ہے .... خبردار کسی کو اس کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا .اپنی اولاد کو غربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمہیں بھی رزق دے رہے ہیں اور انہیں بھی ... اور بدکاریوں کے قریب نہ جانا وہ ظاہری ہوں یا چھپی ہوئی اور کسی ایسے نفس کو جسے خدا نے حرام کردیا ہے قتل نہ کرنا مگر یہ کہ تمہارا کوئی حق ہو .یہ وہ باتیں ہیں جن کی خدا نے نصیحت کی ہے تاکہ تمہیں عقل آجائے. اور خبردار مال هیتیم کے قریب بھی نہ جانا مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو یہاں تک کہ وہ توانائی کی عمر تک پہنچ جائیں اور ناپ تول میں انصاف سے پورا پورا دینا -ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہیں اور جب بات کرو تو انصاف کے ساتھ چاہے اپنی اقرباہی کے خلاف کیوں نہ ہو اور عہد خدا کو پورا کرو کہ اس کی پروردگار نے تمہیں وصیت کی ہے کہ شاید تم عبرت حاصل کرسکو. اور یہ ہمارا سیدھا راستہ ہے اس کا اتباع کرو اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ جاؤ کہ راہ هخدا سے الگ ہوجاؤ گے اسی کی پروردگار نے ہدایت دی ہے کہ اس طرح شاید متقی اور پرہیز گار بن جاؤ.
۵۔ گرسنگی کی وجہ سے اولاد کا قتل :۔اس آیت سے مفہوم یہ نکلتا ہے کہ عرب زمانہٴ جاہلیت میں بیجا تعصّب وغیرت کی وجہ سے اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے، بلکہ لڑکوں کو (جو اس دور میں بزرگی وشرف کا سرمایہ سمجھے جاتے تھے ) بھی فقر وتنگدستی کے خوف سے قتل کردیتے تھے، اس آیت میں الله تعالیٰ نے اپنے وسیع خوان نعمت، کہ جس سے ضعیف ترین موجودات بھی بہرہ ور ہوتے ہیں، کی طرف توجہ دلاکر اس بُرے کام سے روکا ہے۔
بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ”زمانہ جاہلیت کا عمل “ہمارے زمانہ میں بھی پایا جاتا ہے اور ایک دوسرے انداز سے اس کی تکرار کی جاتی ہے کیونکہ بعض افراد غذا کی کمی کے خوف سے بے گناہ بچوں کو حالتِ جنین میں ”ضانع“ کرکے رحمِ مادر ہی میں قتل کردیتے ہیں۔
اگر چہ آج کل اسقاطِ حمل کے جواز پر کچھ دیگز بے اساس دلیلیں بھی بیان کی جاتی ہیں لیکن فقر اور خوراک کی کمی ان دلیلوں میں نمایاں تر ہے۔
یہ بات اور دیگر امور جو اس سے مشابہت رکھتے ہیں اس بات کے مظہر ہیں کہ عصر جاہلیت کی ہمارے زمانہ میں بھی تکرار ہوتی رہتی ہے بلکہ ”’بیسویں صدی کی جاہلیت“ قبل از اسلام کی جاہلیت سے بھی زیادہ وحشتناک اور وسیع تر ہے۔