Tafseer e Namoona

Topic

											

									  دس نصیحتیں

										
																									
								

Ayat No : 151-153

: الانعام

قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۱۵۱وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۱۵۲وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ۱۵۳

Translation

کہہ دیجئے کہ آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا حرام کیا ہے .... خبردار کسی کو اس کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا .اپنی اولاد کو غربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمہیں بھی رزق دے رہے ہیں اور انہیں بھی ... اور بدکاریوں کے قریب نہ جانا وہ ظاہری ہوں یا چھپی ہوئی اور کسی ایسے نفس کو جسے خدا نے حرام کردیا ہے قتل نہ کرنا مگر یہ کہ تمہارا کوئی حق ہو .یہ وہ باتیں ہیں جن کی خدا نے نصیحت کی ہے تاکہ تمہیں عقل آجائے. اور خبردار مال هیتیم کے قریب بھی نہ جانا مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو یہاں تک کہ وہ توانائی کی عمر تک پہنچ جائیں اور ناپ تول میں انصاف سے پورا پورا دینا -ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہیں اور جب بات کرو تو انصاف کے ساتھ چاہے اپنی اقرباہی کے خلاف کیوں نہ ہو اور عہد خدا کو پورا کرو کہ اس کی پروردگار نے تمہیں وصیت کی ہے کہ شاید تم عبرت حاصل کرسکو. اور یہ ہمارا سیدھا راستہ ہے اس کا اتباع کرو اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ جاؤ کہ راہ هخدا سے الگ ہوجاؤ گے اسی کی پروردگار نے ہدایت دی ہے کہ اس طرح شاید متقی اور پرہیز گار بن جاؤ.

Tafseer

									اجازت دی گئی ہو (مثلاً کوئی شخص قاتل ہو) (وَلَاتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ )۔
ان پانچ قسم کی حرمتوں کو بیان کرنے کے بعد مزید تاکید کے لئے ارشا ہوتا ہے: یہ وہ امور ہیں جن کی الله نے تاکید کی ہے، تاکہ تم اسے خوب اچھی طرح سمجھ لو اور ان کے ارتکاب سے اجتناب کرو (ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُون)۔
۶۔ کبھی بھی بغیر ارادہٴ اصلاح کے یتیم کے مال کے پاس نہ جانا حتّیٰ کہ وہ سن تمیز کو پہنچ جایں (وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ھِیَ اٴَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ اٴَشُدَّہُ)۔
۷۔ کم فروشی نہ کرنا اور پیمانہ وترازو کے حق کو عدالت کے ساتھ ادا نہ کرنا (وَاٴَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْطِ)۔
چونکہ ترازواور پیمانہ کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ باوجود احتیاط کرنے کے پھر بھی کچھ فرق باقی رہ جائے جیسا کہ ایسا ہوتا ہے کہ توجہ کے باوجود تھوڑا فرق پھر بھی رہ باقی رہ جاتا ہے جس کی شناخت عام ترازووٴں اور پیمانوں سے ممکن نہیں اس لئے مذکورہ بالا جملہ کے ساتھ ہی فرمایا: ہم کسی شخص پر اس کی قدرت واستطاعت سے زیادہ ذمہ داری عائد نہیں کرتے (لَانُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا)۔
۸۔ فیصلہ کرتے وقت یا گواہی دینے کے موقع پر یا جب بھی کوئی بات کہو تو حق وعدالت کو پیش نظر رکھو اور حق کی راہ سے باہر نہ جاؤ چاہے وہ تمھارے عزیزوں کے بارے میں ہو اور حق کہنے سے انھیں نقصان پہنچ جائے (وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبیٰ)۔ 
۹۔ الله سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرو اور اسے مت توڑو (وَبِعَھْدِ اللهِ اٴَوْفُوا)۔
عہد الٰہی سے کیا مراد ہے، اس بارے میں مفسّرین تے متعدد احتمالات بیان کئے ہیں لیکن آیت کا مفہوم عام ہے جو تمام الٰہی عہدوں پر محیط ہے چاہے وہ تکوینی ہوں یا تشریعی نیز تکالیف الٰہی اور ہر قسم کا عہد ، نذر اور قسم بھی اس میں شامل ہے۔
مزید تاکید کے لئے ان چار قسموں کے آخر میں فرماتا ہے: یہ وہ امور ہیں جن کی خدا تھمیں تاکید کرتا ہے تاکہ تمھیں یاد رہے (ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ)۔
۱۰۔ یہ میرا سیدھا راستہ، توحید کا راستہ ہے، حق وعدالت کا راستہ، پاکیزگی اور تقویٰ کا راستہ ہے، اس کی پیروی کرو اور ٹیڑھے راستے اور افتراق کے راستوں پر ہر گز نہ جاؤ کیونکہ یہ تمھیں خدا کے راستے سے ہٹادیں گے اور تمھارے درمیان نفاق اور اختلاف کے بیج بودیں گے (وَاٴَنَّ ھٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ)۔
اس سب کے آخر میں تیسری تاکید فرماتا ہے کہ یہ وہ امور ہیں جن کی خدا تمھیں تاکید فماتا ہے تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ (ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ)۔