اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع ومحشور کرے گا
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِنَ الْإِنْسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُمْ مِنَ الْإِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ ۱۲۸وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ۱۲۹
اور جس دن وہ سب کو محشور کرے گا تو کہے گا کہ اے گروہ هجناّت تم نے تو اپنے کوانسانوں سے زیادہ بنا لیا تھا اور انسانوں میں ان کے دوست کہیں گے کہ پروردگار ہم میں سب نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے اور اب ہم اس مدّت کو پہنچ گئے ہیں جو تو نے ہماری مہلت کے واسطے معین کی تھی .ارشاد ہوگا تواب تمہارا ٹھکانہ جہّنم ہے جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے مگر یہ کہ خدا ہی آزادی چاہ لے -بیشک تمہارا پروردگار صاحب هحکمت بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے. اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو ان کے اعمال کی بنا پر بعض پر مسلّط کردیتے ہیں.
ان آیات میں قرآن نئے سرے گمراہ اور گمراہ کرنے والے مجرمین کی سرنوشت کی طرف لوٹتا ہے، اور گذشتہ آیات کے مباحث کی اس سے تکمیل کرتا ہے۔
انھیں اس دن کی یاد دلاتاہے کہ جس دن وہ ان شیاطین کے آمنے سامنے کھڑے ہوں گے کہ جن سے انھوں نے الہام لیا ہے، اور ان پیروکاروں اور ان پیشواؤں سے سوال ہوگا ، ایسا سوال کہ جس کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے گے اور حسرت واندوہ کے سواکوئی نتیجہ حاصل نہ کرے گے، یہ تنبیہیں اس مقصد کے لئے ہیں کہ صرف اس چند روزہ زندگی پر نگاہ نہ رکھیں اور انجام کار کی بھی فکر کریں۔
قرآن پہلے کہتا ہے: اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع ومحشور کرے گا تو ابتدا میں کہے گا کہ اے گمراہ کرنے والے جن وشیاطین تم نے بہت سے افراد انسانی کو گمراہ کیا ہے( وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیعًا یَامَعْشَرَ الْجِنِّ قَدْ اسْتَکْثَرْتُمْ مِنْ الْإِنسِ )۔(۱)
لفظ ”جن“ سے مراد یہاں وہی شیاطین ہیں ، کیوں کہ جن اصل لغت میں، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں، ہر مخفی مخلوق کے معنی میں، سورہٴ کہف کی آیہ ۵۰ میں ہم شیاطین کے سردار ابلیس کے بارے میں پڑھے گے۔
”کان من الجن“
یعنی وہ جنوں میں سے تھا۔
آیات گذشتہ کہ جن میں شیاطین کے رمزی وسوسوں کے بارے میں گفتگو تھی اور فرمایاگیا تھا ”ان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم “ اسی طرح بعد والی آیت کچھ اور لوگوں کے بارے میں بعض ستمگروں کی رہبری کی بات کررہی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اسی امر کی طرف اشارہ ہ۔
لیکن گمراہ کرنے والے شیاطین کے پاس اس گفتگو کا کوئی جواب نہیں ہے اور وہ خاموش ہوجاتے ہیں لیکن ”انسانوں میں سے ان کی پیروی کرنے والے اس طرح کہے گے کہ پروردگارا ، انھوں نے ہم سے فائدہ اٹھایا او ر ہم نے ان سے فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ ہماری اجل آگئی“(وَقَالَ اٴَوْلِیَاؤُہُمْ مِنْ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا اٴَجَلَنَا الَّذِی اٴَجَّلْتَ لَنَا )۔
وہ اسی بات پر خوش تھے کہ انھوں نے فرمانبردار پیروکار مل گئے ہیں اور ان پر حکومت کررہے ہیں ، اور ہم بھی دنیا کے زرق وبرق اور اس کی بے لگام وقتی لذات کہ جو شیاطین کے وسوسوں کی وجہ سے دلفریب اور دلچسپ دکھائی دیتی تھی ، خوش تھے۔
اس بارے میں کہ اس آیت میں اجل سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد زندگی کا اختتا م ہے یا قیامت کادن ہے ؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر زندگی کا اختتام مراد ہے، کیوں کہ لفظ ”اجل“ اس معنی میں قرآن کی بہت سے آیات میں استعمال ہوا ہے ۔
لیکن خدا ان سب فاسد ومفسد پیشواؤں اور پیروکاروں کو مخاطب کرکے کہتا ہے: تم سب کے رہنے کی جگہ آگ ہے اور تم ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہوں گے، مگر جو کچھ خدا چاہے (قَالَ النَّارُ مَثْوَاکُمْ خَالِدِینَ فِیہَا إِلاَّ مَا شَاءَ الله )۔
جملہ”الا ماشاء اللہ“ (مگر جو خدا چاہے) کے ساتھ استثنا یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے مواقع پر عذاب وسزا کا ابدی ہونا پروردگار عالم سے اس کی قدرت کو سلب نہیں کرتا، بلکہ جب وہ چاہے اسے بدل سکتا ہے، اگر چہ ایک گروہ کے لئے قائم رہنے دیتا ہے۔
یا یہ ان افراد کی طرف اشارہ ہے کہ جو ابدی عذاب کے مستحق نہیں ہیں، یا یہ وہ عفو الٰہی کے شامل حال ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں کہ جنھیں سزا کے جاودانی ہونے اور ہمیشگی کے حکم سے مستثنی ہونا چاہئے۔
اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : تیرا پروردگار حکیم ودانا ہے(إِنَّ رَبَّکَ حَکِیمٌ عَلِیمٌ )۔
اس کی سزا بھی حساب وکتاب کے ماتحت ہے اور اس کی بخشش بھی حساب وکتاب کی رو سے ہے اوروہ اس کے مواقع کو اچھی طرح جانتا ہے۔
اگلی آیت میں اس قسم کے افراد کے بارے میں ایک دائمی قانون الٰہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جس طرح ستمگر اور طاغی لوگ اس دنیا میں ایک دوسرے کے حامی اور معاون تھے، وہ آپس میں رہبر ورہنما بھی تھے، اور غلط راستوں پر چلنے میں ایک دوسرے کے قریبی ہمکار بھی تھے، ”دوسرے جہان میں بھی ہم انھیں ایک دوسرے کے ساتھ چھوڑ دیں گے، اور یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے کہ جنھیں وہ اس جہان میں انجام دیتے تھے” (وَکَذٰلِکَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمِینَ بَعْضًا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُون)۔
کیوں کہ جیس کہ ہم نے معاد سے مربوط مباحث میں بیان کیا ہے قیامت کا منظر بہت بڑے پیمانے پر عکس العمل اور ردعمل کا منظر ہے اور وہاں پر جو کچھ ہوگا وہ ہمارے اعمال کا پرتواور انعکاس ہے۔(2)
تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں بھی امام علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
”نولی کل من تولی اولیائھم فیکونون معھم یوم القیٰمة“
”قیامت کے دن ہر شخص اپنے اولیاء کے ساتھ ہوگا“۔
قابل توجہ بات یہ ہے آیت میں تمام گروہوں کا ”ظالم“ کے عنوان تعارف کرایا گیا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ”ظلم“ اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے ان سب پر محیط ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ انسان اپنے جیسے شیطان صفت لوگوں کی رہبری کو قبول کرکے اپنے آپ کو خدا کی ولایت سے خارج کرلے، اور دوسرے جہاں میں بھی ان ہی کی ولایت کے ماتحت قرار پائے۔
نیز یہ تعبیر اور”بما کانوا یکسبون“ سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ یہ سیاہ روزی اور بدبختی خود ان کے اعمال کی وجہ ہے اور یہ ایک سنت الٰہی اور قانون فطرت ہے کہ تاریک راستوں کے راہی بدبختی کے کنویں اور درے میں گرنے کے سوا اور کوئی انجام وعاقبت نہیں پائیں گے۔
۱۳۰ یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ اٴَلَمْ یَاٴْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہَذَا قَالُوا شَہِدْنَا عَلیٰ اٴَنفُسِنَا وَغَرَّتْہُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا وَشَہِدُوا عَلیٰ اٴَنفُسِہِمْ اٴَنَّہُمْ کَانُوا کَافِرِینَ ۔۔
۱۳۱ ذٰلِکَ اٴَنْ لَمْ یَکُنْ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَاٴَہْلُہَا غَافِلُونَ ۔
۱۳۲ وَلِکُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ ۔
ترجمہ
۱۳۰۔ (اس دن ان سے کہے گا) اے گروہ جن وانس ! کیا تم ہی میں سے (ہمارے بھیجے ہوئے) رسول تمھارے پاس نہیں آئے تھے، جو ہمارے آیات تمھارے سامنے بیان کیا کرتے تھے، اور اس قسم کے دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے، وہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں (ہاں ہم نے برا کیا) اور انھیں دنیا کی (زرق وبرق) زندگی نے فریب دیا، اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے۔
۱۳۱۔ یہ اس بنا پر ہے کہ تیرا پروردگار کبھی بھی شہر اور آبادیوں (کے لوگوں) کو ان کے ظلم وستم کی وجہ سے غفلت اور بے خبری کی حالت میں ہلاک نہیں کرتا(بلکہ پہلے کچھ رسولوں کو ان کے پاس بھیجتا ہے)۔
۱۳۲۔ اور (ان دونوں گروہوں میں سے ) ہر ایک کے لئے درجات (اور مراتب) ہیں ہر اس عمل کے بدلے میں جو انھوں نے انجام دیا ہے اور تیرا پروردگار ان اعما ل سے جو انھوں نے انجام دئیے ہیں غافل نہیں ہے۔
تفسیر
۱۔ ”یوم“ ظرف ہے اور ”یقول“ سے متعلق ہے جو کہ محذوف ہے اور اصل میں جملہ یوں تھا” یوم یحشرھم جمیعا یقول“۔
2۔ مزید وضاحت کے لئے ”معادو جہان پس از مرگ “ نامی قیمتی کتاب کی طرف رجوع کریں۔