Tafseer e Namoona

Topic

											

									  خدائی امداد

										
																									
								

Ayat No : 125-127

: الانعام

فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ۱۲۵وَهَٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ ۱۲۶لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۱۲۷

Translation

پس خدا جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ اور دشوار گزار بنادیتا ہے جیسے آسمان کی طرف بلند ہورہا ہو ,وہ اسی طرح بے ایمانوں پر ان کی کثافت کو مسّلط کردیتاہے. اور یہ ہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے .ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے آیات کو مفصل طور سے بیان کردیا ہے. ان لوگوں کے لئے پروردگار کے نزدیک دارالّسلام ہے اور وہ ان کے اعمال کی بنا پر ان کا سرپرست ہے.

Tafseer

									گذشتہ آیات کہ جو سچے مومنین اور ہٹ دھرم کفار کے بارے میں بحث کررہی تھیں، کے بعد ان آیات میں ان عظیم نعمتوں کو جو پہلے گروہ کے لئے ہیں اور بے توفیقیاں جو دوسرے گروہ کے دامن گیر ہوںگی تفصیل ک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
پہلے فرمایا گیاہے: جس شخص کو خدا ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ حق کو قبول کرنے کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ اس کے لئے اسے تنگ کردیتا ہے گویا وہ چاہتا ہے کہ آسمان کی طرف چڑھ جائے( فَمَنْ یُرِدْ اللهُ اٴَنْ یَہدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلْإِسْلاَمِ وَمَنْ یُرِدْ اٴَنْ یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاٴَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَاءِ )۔
اس امر کی تاکید کے لئے مزید کہا گیا ہے : خدا اس طرح سے پلیدی اور رجس کو بے ایمان افراد کے لئے قرار دیتا ہے اور ان کے سرا پا کو نحوست اور سلب توفیق گھیر لے گی (کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللهُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ)۔