یہ ایک بہت ہی بابرکت کتاب ہے
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ ۗ قُلْ مَنْ أَنْزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورًا وَهُدًى لِلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا ۖ وَعُلِّمْتُمْ مَا لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ ۹۱
اور ان لوگوں نے واقعی خدا کی قدر نہیں کی جب کہ یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نہیں نازل کیا ہے تو ان سے پوچھئے کہ یہ کتاب جو موسٰی علیھ السّلاملے کر آئے تھے جو نور اور لوگوں کے لئے ہدایت تھی اور جسے تم نے چند کاغذات بنادیا ہے اور کچھ حصّہ ظاہر کیا اور کچھ چھپادیا حالانکہ اس کے ذریعہ تمہیں وہ سب بتادیا گیا تھا جو تمہارے باپ دادا کو بھی نہیں معلوم تھا یہ سب کس نے نازل کیا ہے اب آپ کہہ دیجئے کہ وہ وہی اللہ ہے اور پھر انہیں چھوڑ دیجئے یہ اپنی بکواس میں کھیلتے پھریں.
اُس بحث کے بعد جو گذشتہ آیت میں یہودیوں کی اسمانی کتاب کے بارے میں تھی، یہاں قرآن کی طرف جو ایک دوسری آسمانی کتاب ہے اشارہ ہوتا ہے اور حقیقت میں تورات کا ذکر قرآن کے ذکر کے لیے ایک مقدمہ کے طور پر ہے، تاکہ ایک بشر پر کتابِ آسمانی کے نزول پر تعجب نہ کریں۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ وہ کتاب ہے جس ہم نے نازل کیا ہے (وَہٰذَا کِتَابٌ اٴَنزَلْنَاہُ)۔
یہ ایک بہت ہی بابرکت کتاب ہے کیونکہ یہ طرح طرح کی خوبیوں، نیکوں اور کامیابیوں کا سرچشمہ ہے (مُبَارَکٌ)۔
اس کے علاوہ ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں تصدیق کرتی ہے (مُصَدِّقُ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْہِ)۔
اس سے مراد کہ قرآن گذشتہ مقدس کتابوں کی تصدیق کرتاہے یہ ہے کہ وہ تمام علامات (اور نشانیاں) جو اُن میں آئی ہیں وہ اس سے مطابقت رکھتی ہیں اور اس طرح گذشتہ دو جملوں میں قرآن کی حقانیت کی دو نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔ ایک ان نشانیوںکا موجود ہونا کہ جن کی گذشتہ کتب میں خبر دی گئی تھی اور دوسرے قرآن کریم کے خود اپنے مضامین عالیہ کہ جن میں ہر قسم کی خیرو برکت اور وسیلہٴ سعادت موجود ہے۔ اس بناپر اس کے مضامین عالیہ کے لحاظ سے بھی اور اسناد وتاریخی مدارک کی نظر سے بھی اس میں حقانیت کی واضح نشانیاں موجود ہیں۔
اس کے بعد نزول قرآن کے ہدف ومقصد کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے: ہم نے اسے اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم امّ القریٰ (مکہ) اور ان تمام لوگوں کو اس کے اطراف وجوانب میں رہتے ہیں، ڈراؤ اور ان کی ذمہ داریوں اور فرائض سے انھیں آگاہ کرو (وَلِتُنذِرَ اٴُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا)۔(۱)
اور چونکہ ”انذار“ یعنی ذمہ داریوں اور فرائض کی طرف متوجہ کرنا اور ان کے ترک کرنے سے ڈرنا خصوصاً ایسے اشخاص کو جو سرکش وطغیانگر ہوں قرآن کریم کا اہم ترین پورگرام ہے، لہٰذا صرف اسی حصّے کی طرف اشارہ ہوا ہے اور آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے کہ: وہ لوگ جو قیامت کے دن پر، حساب وکتاب اور اعمال کی جزا پر ایمان رکھتے ہیں، اس کتاب پر بھی ایمان لے آئیں گے اور اپنی نمازوں کی حفاظت بھی کریں گے (وَالَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلیٰ صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ)۔
۱۔ اس بارے میں کہ ”لتنذر“ کا عطف کس پر ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن زیادہ تر جو بات نظر آتی ہے یہ ہے یہ ایک محذوف لفظ مثلاً ”لتبشر“ وغیرہ پر عطف ہو۔