Tafseer e Namoona

Topic

											

									  (۳)”اھبتوا“ میں کون مخاطب ہیں

										
																									
								

Ayat No : 37-39

: البقرة

فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ۳۷قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۳۸وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۳۹

Translation

پھر آدم علیھ السّلام نے پروردگار سے کلمات کی تعلیم حاصل کی اور ان کی برکت سے خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے. اور ہم نے یہ بھی کہا کہ یہاں سے اترپڑو پھر اگر ہماری طرف سے ہدایت آجائے تو جو بھی اس کا اتباع کرلے گا اس کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا نہ حزن. جو لوگ کافر ہوگئے اور انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلا دیا وہ جہنمّی ہیں اور ہمیشہ وہیں پڑے رہیں گے.

Tafseer

									 ”اھبتوا“صیغہ جمع کے ساتھ آیا ہے جب کہ آدم وحوا جو اس گفتگو کے اصلی مخاطب ہیں وہ دو سے زیادہ نہیں ہیں لہٰذا انکے لئے تثنیہ کا صیغہ آنا چاہیئے تھا لیکن اس بناء پر جمع کا صیغہ آیا کہ آدم وحواکے زمین پر اتر نے کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کی نسل کو بھی زمین میں رہنا تھا لہٰذا جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔
۴۰ ۔یٰبنی اسرائیل اذکروانعمتی التی انعمت علیکم واوفوابعھدی اوف بعھدکم وایای فارھبون 
ترجمہ 
۴۰ ۔اے اولاد اسرئیل !جو نعمتیں میں نے تمہیں عطا کی ہیں انہیں یا درکھو اور میرے ساتھ جو تم نے عہد وپیما ن با ندھا ہے ۔اسے پورا کرو تاکہ میں بھی تمہارے ساتھ کئے ہو ئے عہد و پیما ن کو پو را کروں (اور ذمہ داری کی انجام دہی نیز عہد وپیمان کی پابندی میں )صرف مجھ سے ڈراکرو۔