”جن“ “سے مراد
وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ۷۵فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ ۷۶فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ ۷۷فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ ۷۸إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۷۹
اور اسی طرح ہم ابراہیم علیھ السّلامکو آسمان و زمین کے اختیارات دکھلاتے ہیں اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں شامل ہوجائیں. پس جب ان پر رات کی تاریکی چھائی اور انہوں نے ستارہ کو دیکھا تو کہا کہ کیا یہ میرا رب ہے . پھر جب وہ غروب ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا. پھر جب چاند کو چمکتا دیکھا تو کہا کہ پھر یہ رب ہوگا .پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا کہ اگر پروردگار ہی ہدایت نہ دے گا تو میں گمراہوں میں ہوجاؤں گا. پھر جب چمکتے ہوئے سورج کو دیکھا تو کہا کہ پھر یہ خدا ہوگا کہ یہ زیادہ بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا کہ اے قوم میں تمہارے شِرک سے بری اور بیزار ہوں. میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں باطل سے کنارہ کش ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں.
۲۔ ”جن“ (مادہ ”جن“ بروزن ”فن“سے)کسی چیز کو چھپانے کے معنی میں ہے اور زیر بحث آیت میں جملہ کا معنی یہ ہے کہ ”جب رات نے ابراہیم- سے موجودات کا چہرہ چھپادیا اور“۔ اور یہ جو دیوانہ کو مجنون کہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ گویا ایک پردہ اس کی عقل پر پڑگیا ہے اور نظر آنے والے موجود کو جو جن کہتے ہیں تو وہ بھی اسی لحاظ سے ہے۔ جنین بھی بچے کے شکم مادر میں پوشیدہ ہونے کی وجہ سے ہے اور جنت کا اطلاق بہشت اور باغ پر بھی اسی بناپر ہے کہ اس کی زمین درختوں کے نیچے چھپی ہوئی ہوتی ہے اور دل کو جنان (بروزن زمان) اسی لیے کہتے ہیں چونکہ وہ سینہ کے اندر پوشیدہ ہے، یا یہ کہ وہ انسان کے اسرار اور رازوں کو چھپائے رکھتا ہے۔