کیوں کہ یہ سورہ شرک وبت پرستی سے مقابلے کا پہلو رکھتی ہے
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ ۷۳
وہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور وہ جب بھی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ چیز ہوجاتی ہے اس کا قول برحق ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہوگا وہ غائب اور حاضر سب کا جاننے والا صاحب حکمت اور ہر شے سے باخبر ہے.
کیوں کہ یہ سورہ شرک وبت پرستی سے مقابلے کا پہلو رکھتی ہے اور اس میں روئے سخن زیادہ تر بت پرستوں کی طرف ہے لہٰذا ان کو بیدار کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے استفادہ کیا گیا ہے ، یہاں بہادر بت شکن ابرہیم کی سرنوشت کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بت شکنی کے سلسلہ میں ان کی قومی منطق کو چند آیات میں بیان کیا گیا ہے ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے بیان توحید اور بتوں سے مبارزہ کے سلسلہ میں بہت سے مباحث میں اسی سرگذشت کو ذکر کیا ہے، کیوں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) تمام اقوام کے لئے خصوصا مشرکین عرب کے لئے قابل احترام تھے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ ابرہیم نے اپنے باپ (چچا) کو تنبیہ کی اور اس سے کہا کہ : کیا تم ان بے قیمت اور بے جان بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے(وَإِذْ قَالَ إِبْرَاھِیمُ لِاٴَبِیہِ آزَرَ اٴَتَتَّخِذُ اٴَصْنَامًا آلِھَةً) ۔
اس میںشک نہیں کہ میں تجھے اور تیرے پیروکار اور ہم مسلک گروہ کو واضح گمراہی میں دیکھتا ہو،اس سے زیادہ گمراہی اور کیا ہوگی کہ انسان اپنی مخلوق کو اپنا معبود قرار دے اور بے جان اور بے شعور موجود کو اپنی پناہ گا سمجھ لے اور اپنی مشکلات حل ان سے طلب کرے( إِنِّی اٴَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِی ضَلاَلٍ مُبِین) ۔