Tafseer e Namoona

Topic

											

									  اہل باطل کی مجالس سے دوری

										
																									
								

Ayat No : 68-69

: الانعام

وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۶۸وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَلَٰكِنْ ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ۶۹

Translation

اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کررہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ دوسری بات میں مصروف ہوجائیں اور اگر شیطان غافل کردے تو یاد آنے کے بعد پھر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھنا. اور صاحبان هتقو یٰ پر ان کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے لیکن یہ ایک یاددہانی ہے کہ شاید یہ لوگ بھی تقوٰی اختیار کرلیں.

Tafseer

									چونکہ اس سورہ کے زیادہ تر مباحث مشرکین اور بت پرستوں کی کیفیت کے بارے میں ہے لہٰذا ان دو آیات میں ان سے مربوط ایک دوسرے مسئلہ کی طرف اشارہ ہورہا ہے، پہلے پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلمسے ارشاد ہوتا ہے کہ:جس وقت تم ہٹ دھرم اور بے منطق مخالفین کو دیکھو کہ وہ آیات خدا کا استہزاء کررہے ہیں تو ان سے منہ پھیر لوجب تک وہ اس کام سے صرف نظر کرکے دوسری گفتگو کو شروع نہ کرلیں(واِذَا رَاٴَیْتَ الَّذِینَ یَخُوضُونَ فِی آیَاتِنَا فَاٴَعْرِضْ عَنْھُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فِی حَدِیثٍ غَیْرِہِ) ۔ (۱) 
اس جملے میں اگرچہ روئے سخن پیغمبر کی طرف ہے، لیکن یہ بات مسلم ہے کہ یہ حکم آپ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام مومنین کے لئے ہے ۔ اس حکم کا فلسفہ بھی واضح ہے کہ اگر مسلمان ان کی مجالس میں شرکت کرتے تھے تو وہ انتقام لینے اور انھیں تکلیف پہنچانے کے لئے اپنی باطل اور ناروا باتوں کو جاری رکھتے تھے، لیکن جب وہ بے اعتنائی کے ساتھ ان کے قریب سے گزرجائیں تو وہ فطرتا خاموش ہوجائیں گے اور دوسرے مسائل شروع کردیں گے، کیوں کہ ان کا سارا مقصد تو پیغمبر اورمسلمانوں کو تکلیف پہچانا تھا ۔
اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ یہ موضوع اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ ”اگر شیطان تمھیں یہ بات بھلا دے اور اس قسم کے افراد کے ساتھ بھول کر ہم نشین ہوجاؤ تو جب بھی اس موضوع کی طرف توجہ ہوجائے فورا اس مجلس سے کھڑے ہوجاؤ اور ان ظالموں کے پاس نہ بیٹھو(وَإِمَّا یُنسِیَنَّکَ الشَّیْطَانُ فَلاَتَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) ۔ (۲)

۱۔ ”خوض“ جیسا کہ ”راغب“ کتاب ”مفردات“ میں کہتا ہے دراصل پانی میں وارد ہونے اور اس میں چلنے(اور نہانے) کے معنی میں ہے لیکن بعد اور امور میں وارد ہونے کے معنی میں بھی بولا جانے لگا، لیکن قرآن میں اس لفظ کا اطلاق زیادہ تر باطل اور بے بنیاد مطلب میں وارد ہونے کے معنی میں ہوا ہے ۔
۲۔ شاید یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہ ہو کہ ”لا تقعد“ (ان کے پاس نہ بیٹھو) سے مراد یہ نہیں ہے کہ صرف ایسے افراد کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے، بلکہ مقصد تو ان کی جماعت میں شرکت کرنا ہے، چاہے بیٹھنے کی شکل میں ہو یا قیام کی صورت میںیاچلنے کی حالت میں ۔