فطری توحید
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۴۰بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ ۴۱
آپ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاؤ گے. نہیں تم خدا ہی کو پکارو گے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کرسکتا ہے ....اور تم اپنے مشرکانہ خداؤں کو بھول جاؤ گے.
دوبارہ روئے سخن مشرکین کی طرف کرتے ہوئے ایک دوسرے طریقہ سے توحید ویگانہ پرستی کے لئے ان کے سامنے استدلال کرتا ہے، وہ اس طریقہ سے کہ انھیں ان کی زندگی کے بہت ہی سخت اور دردناک لمحات یاد دلاتا ہے اور ان کے وجدان سے مدد چاہتا ہے کہ اس قسم کے لمحات میں جب کہ ہرچیز کو بھول جاتے ہیں تو اس وقت خدا کے علاوہ اور کوئی پناہ گاہ انھیں اپنے لئے سمجھا دیتا ہے، اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ اگر خدا کا دردناک عذاب تمھارے پیچھے آپہنچے یا قیامت اپنی اس ہولناک ،ہیجان اور وحشتناک حادثات کے ساتھ برپا ہوجائے، تو سچ بتاؤ کہ کیا تم خدا کے سوا کسی اور کو اپنے شدائد کو بر طرف کرنے کے لئے پکارو گے( قُلْ اٴَرَاٴَیْتَکُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ اٴَوْ اٴَتَتْکُمْ السَّاعَةُ اٴَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُونَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ )(۱)
یہ آیت نہ صرف مشرکین کے لئے ہے بلکہ معنی کے اعتبار سے باطنی طور پر تمام افراد کے لئے شدائد اور سخت حوادث کے ظہور کے وقت قابل فہم ہے، ممکن ہے کہ عام حالات میں اور چھوٹے چھوٹے حادثات میں انسان غیر خدا کے ساتھ متوسل ہوجائے لیکن جب حادثہ بہت زیادہ سخت ہو تو انسان تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے ، البتہ یہی حالت ہوتی وہ جب کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں نجات کے لئے ایک قسم کی امید محسوس کرتا ہے کہ جو ایک پوشیدہ اور نامعلوم قدرت سے سرچشمہ حاصل کرتی ہے، یہی وہ توجہ ہوتی ہے جو خدا کی طرف ہوتی ہے اور یہی حقیقت توحید ہے ۔
یہاں تک کہ مشرکین اور بت پرست بھی اس قسم کے لمحات میں بتوں کی بات کو درمیان میں نہیں لاتے اور وہ سب کو بھلا دیتے ہیں ۔
بعد والی آیت میں فرمای گیا ہے :بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو اگر وہ چاہے تو تمھاری مشکل کو حل کردے اور شریک جو تم نے خدا کے لئے تیار کررکھے تھے ان سب کو بھلا دیتے ہو( بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْہِ إِنْ شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ )
۱۔ جیسا کہ عربی ادب کے علماء نے تصریح کی ہے کہ ”ک“ اریتک“ میں اور ”کم“ اراٴیتکم“ میں نہ اسم ہے نہ ضمیر بلکہ صرف خطاب ہے، جو حقیقت میں تاکید کے لئے آتا ہے، ایسے موقع پر عام طور پر فعل مفرد کی شکل میں آتا ہے اور اس کا مفرد ، تثنیہ اور جمع ہونا اسی حرف خطاب کی تغیرات سے ظاہر ہوتا ہے، اسی لئے ”اراٴیتکم“ میں باوجود یہ کہ مخاطب جمع ہے فعل ”رئیت“مفرد لا یا گیا ہے اور اس کا جمع ہونا ”کم“ سے جو کہ حرف خطاب ہے سمجھا گیا ہے، ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ معنی کے لحاظ سے مساوی ہے ”اخبرنی“ یا اخبرونی“ کے لیکن حق یہ ہے کہ یہ لفظ اپنے استفہامی معنی کی مکمل حفاظت کرتا ہے اور ”اخبرونی“ اس کے معنی کا لازمہ ہے نہ کہ خود اس کے معنی ہے(غور کیجئے گا)