Tafseer e Namoona

Topic

											

									  وقتی اور بے اثر بیداری

										
																									
								

Ayat No : 27-28

: الانعام

وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۲۷بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ۲۸

Translation

اگر آپ دیکھتے کہ یہ کس طرح جہنّم کے سامنے کھڑے کئے گئے اور کہنے لگے کہ کاش ہم پلٹا دئیے جاتے اور پروردگار کی نشانیوں کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین میں شامل ہوجاتے. بلکہ ان کے لئے وہ سب واضح ہوگیا جسے پہلے سے چھپارہے تھے اور اگر یہ پلٹا بھی دئیے جائیں تو وہی کریں گے جس سے یہ روکے گئے ہیں اور یہ سب جھوٹے ہیں.

Tafseer

									وقتی اور بے اثر بیداری
 
گذشتہ دو آیات میں مشرکین کی ہٹ دھرمی کے کچھ اعمال کی طرف اشارہ ہوا تھا اور وہ ان دو آیات میں ان کے اعمال کے نتائج کا منظر مجسم ہوا ہے تاکہ وہ دیکھ لیں کہ انھیں کیسا برا انجام درپیش ہے اور وہ بیدار ہوجائےں یا کم از ک ان کی کیفیت دوسروں کے لئے باعث عبرت۔
پہلے فرمایا گیاہے: اگر تم ان کی حالت جب وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے، دیکھو، تو تم تصدیق کرو گے کہ وہ کس دردناک انجام وعاقبت میں گرفتار ہوئے ہیں

( وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ---)(۱) ۔
وہ اس حالت سے اس طرح منقلب ہوں گے کہ دادوفریاد کریں گے کاش اس سرنوشت شوم سے نجات اور برے کاموں کی تلافی کے لئے دوبارہ دنیا میں پلٹ جاتے، اور وہاں آیات خدا کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین کی صف میں قرار پاتے( فَقَالُوا یَالَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَنُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ)(۲)
بعد والی آیت میں کہا گیا ہے کہ یہ جھوٹی آرزو ہے بلکہ یہ اس بنا پر ہے کہ اس دنیا میں جو عقائد ،نیتیں اور اعمال انھوں نے چھپا رکھے تھے وہ سب ان کے سامنے آشکار ہوگئے ہیں اور وہ وقتی طور پر بیدار ہوئے ہیں ( بَلْ بَدَا لھُمْ مَا کَانُوا یُخْفُونَ مِنْ قَبْل) ۔
لیکن یہ پائیدار اور محکم اور بیداری نہیں ہے، اور مخصوص حالات میں پیدا ہوئی ہے لہٰذا اگر بغرض محال وہ دوبارہ اس جہاں می پلٹ بھی جائیں تو انھیں کاموں کے پیچھے لپکے گے جن سے انھیں روکا گیا ہے( وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُھُوا عَنْہُ) ۔
اس بنا پر وہ اپنی آرزو اورمدعا میں سچے نہیں ہیں اور وہ جھوٹ بولتے ہیں ( وَإِنَّھُمْ لَکَاذِبُونَ) ۔

 
۱۔اس بنا پر ”لو“ بمعنی شرط ہے اور اس کی جزاو وضاحت کی وجہ سے محذوف ہے ۔
۲۔اہم نکتہ کہ جس کی طرف توجہ کرنا چاہئے کہ ”مشہور قرائت کے مطابق جو دسترس میں ہے“ ”نرد“ رفع کے ساتھ اور ”لانکذب“ اور ”نکون“ نصب کے ساتھ پڑھا گیا ہے، حالانکہ ظاہرا ایک دوسرے پر معطوف ہیں لہٰذا تمام کو ایک جیسا ہونا چاہےے، اس کی بہترین توجیہ یہ ہے کہ ”نرد“ جزاء تمنی ہے اور ”لانکذب“ حقیقت میں اس کا جواب ہے اور ”واو “ یہاں منزلہٴ ”فاء “ کے ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ تمنی کا جواب جب ”فاء“ کے بعد ہو تو منصب ہوتا ہے، فخرالدین رازی،مرحوم طبرسی، اور ابوالفتوح رازی جیسے مفسرین نے اس کی اور وجوہ بھی ذکر کی ہیں، لیکن جو کچھ یہاں بیان کیا گیا ہے وہ سب سے زیادہ واضح ہے اس بنا پر آیت سورہٴ ”زمر“ کی آیہٴ ۵۸ کے مثابہ ہے جو ااس طرح ہے: لو ان لی کرة فاکون من المحسنین“۔