Tafseer e Namoona

Topic

											

									  حق قبول نہ کرنے والوں کا طرز عمل

										
																									
								

Ayat No : 25-26

: الانعام

وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا ۚ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ۲۵وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ ۖ وَإِنْ يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ۲۶

Translation

اور ان میں سے بعض لوگ کان لگا کر آپ کی بات سنتے ہیں لیکن ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں ... یہ سمجھ نہیں سکتے ہیں اور ان کے کانوں میں بھی بہراپن ہے -یہ اگر تمام نشانیوں کو دیکھ لیں تو بھی ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آئیں گے تو بھی بحث کریں گے اور کفار کہیں گے کہ یہ قرآن تو صرف اگلے لوگوں کی کہانی ہے. یہ لوگ دوسروں کو قرآن سے روکتے ہیں اور خود بھی دور بھاگتے ہیں حالانکہ یہ اپنے ہی کو ہلاک کررہے ہیں اور انہیں شعور تک نہیں ہے.

Tafseer

									حق قبول نہ کرنے والوں کا طرز عمل
 
اس آیت میں بعض مشرکین کی نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ حقائق سننے کے لئے خود سے ذرہ بھر توجہ بھی نہیں دیتے، یہ تو ایک معمولی سی بات ہے، وہ تو اس سے دشمنی پر بھی اتر آتے ہیں اور تہمتوں کے ذریعہ خود کو اور دوسروں کو بھی اس سے دور رکھتے ہیں، ان کے بارے میں یوں کہا گیا ہے :ان میں سے بعض تیری بات تو سنتے ہیں لیکن ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دئےے ہیں، تاکہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں، اور ان کے کانوں میں ہم نے بوجھل پن پیدا کردیا ہے تاکہ وہ اسے نہ سنے( وَمِنْھُمْ مَنْ یَسْتَمِعُ إِلَیْکَ وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِھِمْ اٴَکِنَّةً اٴَنْ یَفْقَھُوہُ وَفِی آذَانِھِمْ وَقْرًا)(۱)
حقیقت میں زمانہ جاہلیت کے اندھے تعصبات اور مادی منافع میں غرق ہوتے چلے جانا اور ہوا وہوس کی پیروی کرنا ان کے عقل وہوش ہر اس طرح غالب آگیا ہے کہ گویا وہ پردے کے نیچے آگئے ہیں ( جس کی وجہ ) ناتو وہ کسی حقیقت کو سن سکتے ہیں اور نہ ہی مسائل کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں ۔
ہم یہ بات کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ اگر اس قسم کے مسائل کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے تو یہ حقیقت میں قانون ”علیت“ اورخاصیت عمل کی طرف اشارہ ہوتا ہے ،کج روی میں تسلسل اور ہٹ دھرمی اور بے دینی پر اصرار کا اثر یہ ہے کہ انسان کی روح بھی اسی سانچے میں ڈھل جاتی ہے اور یہ اعمال انسان کو ٹیڑھے آئینے کی طرح بنا دیتے ہیں کہ (اس ٹیڑھے آئینے میں ) ہر چیز کج اور ٹیڑھی ہی نظر آتی ، تجربے نے اس حقیقت کو ثابت کردیا ہے کہ بدکار اور گناہگار افراد ابتدا میں اپنے برے کام سے پریشان اور بے آرام ہوتے ہیں لیکن پھر تدریجا اس کے عادی ہوجاتے ہیں اور شاید ایسا دن بھی آجائے کہ وہ اپنے برے اعمال کو واجب اور ضروری سمجھنے لگ جاتے ہیں، دوسرے لفظوں میں یہ ان کی حق سے مخالفت اور کرنے اور گناہ پر ہٹ دھرمی اور اصرار کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے کہ جو ہٹ دھرم گناہگاروں کے دامن سے چمٹ جاتی ہے ۔
اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا معاملہ اس حدکو پہنچ گیا ہے کہ :اگر وہ تمام آیات خدا اور اس کی نشانیوں کو بھی دیکھ لیں تو پھر بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے( وَإِنْ یَرَوْا کُلَّ آیَةٍ لاَیُؤْمِنُوا بِھَا) ۔
اور اس بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے دل کے کانوں کو تیری باتوں کی طرف متوجہ کریں اور کم اسے کم ایک حق کے متلاشی کی طرح کوئی نہ کوئی حقیقت معلوم ہوجانے کے احتمال میں بھی اس کے بارے میں کچھ غور کریں، وہ منفی روح اور منفی فکر کے ساتھ تیرے سامنے آتے ہیں اور لڑنے ،جھگڑنے اور اعتراض کرنے کے سوا ان کا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا( حَتَّی إِذَا جَائُوکَ یُجَادِلُونَکَ ) ۔
وہ تیری باتوں کو سن کر جو چشم وحی سے وحی سے نکلی ہے اور تیری حق گو زبان پر جاری ہوئی ہے تجھ پر تہمت لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بات گذشتہ انسانوں کے گھڑے ہوئے قصوں اور افسانوں کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی (یقولُ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ ھَذَا إِلاَّ اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔
بعد والی آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ صرف اتنی بات پر ہی قناعت نہیں کرتے اور باوجود اس کے کہ وہ خود گمراہ ہیں ہمیشہ اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ حق کے متلاشی لوگوں کو اپنی طرح طرح کی زہر افشانیوں کے ذریعے اس راستے پر چلنے سے روک لیں لہٰذا وہ انھیں پیغمبر کے قریب جانے سے منع کرتے ہیں ( وَھُمْ یَنْھَوْنَ عَنْہُ)
اور خود بھی اس سے دور دور ہی رہتے ہیں (وَیَنْاٴَوْنَ عَنْہُ) (2) ۔
وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ جو شخص حق کے سامنے الجھے اور اس سے بیر رکھے اس نے خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے اور انجام کار قانون آفرینش کے مسلمہ اصول کے مطابق حق کا چہرہ باطل کے بادلوں اوٹ سے نمایا ہوجاتا ہے اور ”حق“ میں جو قوت جاذبہ پائی جاتی ہے اس سے وہ کامیاب ہوکر رہے گا اور باطل اس بے قدروقیمت چھاگ کی طرح جو پانی کے اوپر آجاتا ہے نابود ہوکررہے گا، اس بنا پر ان کی کوشش اورفعالیت ان کی اپنی ہی شکست پر انجام پذیر ہوگی اور وہ خود اپنے سوا اور کسی کو بھی ہلاک نہیں کریں گے لیکن ان میں اس حقیقت کو سمجھنے کی طاقت نہیں ہے ( وَإِنْ یُھْلِکُونَ إِلاَّ اٴَنفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ ) ۔

 
۱۔ اکنہ ”جمع“ ”کنان“بروزن”کتاب“پردہ کے معنی میں ہے،یا ہر وہ چیزجو چھپا دے اور”وقر“ کان کے بوجھل ہونے کے معنی میں ہے ۔
2۔ ینئون ”ناٴی“ کے مادہ سے ہے جو بروزن ”سعی“ ہے دوری اختیار کرنے کے معنی میں ہے ۔