Tafseer e Namoona

Topic

											

									  تو یہاں اجل سے مراد وہی حتمی موت ہے ۔

										
																									
								

Ayat No : 3

: الانعام

وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ ۳

Translation

وہ آسمانوں اور زمین ہرجگہ کا خدا ہے وہ تمہارے باطن اور ظاہر اور جو تم کاروبار کرتے ہو سب کو جانتا ہے.

Tafseer

									اس بنا پر یہ آیت اس موقع سے مربوط ہے جب انسان اپنی آخری عمر کو پہنچ گیا ہو لیکن وہ موتیں جو قبل ازوقت واقع ہوجائےں ان پر اس آیت کا اطلاق نہیں ہوسکتا ۔
اور ہر صورت میں اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ دونوں اجلیں خدا ہی کی طرف سے معین ہوتی ہیں، ایک مطلق طور پر اور دوسری مشروط اور معلق طریقہ سے، بالکل اسی طرح جیسے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ چراغ بیس گھنٹوں کے بعد بلاشرط خاموش ہوجائے گا، اور یہ بھی ہم کہہ دیتے ہیں کہ اگر آندھی چل پڑی تو دوہی گھنٹوں کے بعد بجھ جائے گا، یہ بات انسان ، قوموں اور ملتوں کے بارے میں بھی اسی طرح ہے، ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص یا فلاں قوم،فلاں مقدار عمر کے کے بعد قطعی ویقینی طور پر ختم ہوجائی گی اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ ظلم وستم ،نفاق واختلاف اور سہل انگاری وسستی اختیار کریں گے تو اس مدت کے ایک تہائی حصہ میں ہی ختم ہوجائے گی، دونوں اجلیں خدا کی طرف سے ہیں ایک مطلق ہے اور دوسری مشروط۔
امام صادق علیہ السلام سے اوپر والی آیت کے ذیل میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
”ھمااجلان ،اجل محتوم واجل موقوف“
یہ دو قسم کی اجلوں کی طرف اشارہ ہے، اجل حتمی اور اجل مشروط۔
دوسری احادیث میں جو اس بارے میں وارد ہوئی ہیں اس بات کی تصریح ہوگئی ہے کہ اجل غیر حتمی(مشروط) آگے پیچھے ہوسکتی ہے لیکن اجل حتمی قابل تغیر نہیں ہے(1) ۔

۳ وَھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمَاوَاتِ وَفِی الْاٴَرْضِ یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَھْرَکُمْ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُونَ 
ترجمہ
۳۔ اور آسمانوں اور زمینوں میں خدا تو وہی ہے جو تمہاری پوشیدہ باتوں کا بھی جانتا ہے اور آشکار بھی اور جو کچھ تم( انجام دیتے ہو اور )کسب کرتے ہو اس سے بھی باخبر ہے ۔ 

1۔نورالثقلین،جلد۱،صفحہ۵۰۴۔